وزیراعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت کوئٹہ میں نیشنل ایکشن پلان کی صوبائی ایپکس کمیٹی کا اجلاس
وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت کوئٹہ میں نیشنل ایکشن پلان کی صوبائی ایپکس کمیٹی کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں بلوچستان کی سیکیورٹی صورتحال، ترقیاتی منصوبوں، گورننس اصلاحات اور انسدادِ دہشتگردی اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
وزیراعظم نے بلوچستان اور ملک بھر میں دہشتگردی کے خلاف مؤثر اقدامات پر چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور پاک افواج کو خراجِ تحسین پیش کیا، جبکہ عوامی فلاحی منصوبوں پر وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور ان کی ٹیم کی کاوشوں کو سراہا۔
اجلاس میں وزیراعظم نے رخشان ڈویژن میں فرنٹیئر کور تعینات کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ اس اقدام سے معدنیات کے تحفظ کے لیے ایک مؤثر سیکیورٹی راہداری قائم ہوگی، جس میں اضافی ایف سی ونگز، شاہراہوں پر چیک پوسٹس، سرویلنس گرڈ اور سرحدی پوسٹس شامل ہوں گی۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان قدرتی وسائل، خصوصاً معدنیات سے مالامال ہے اور بلوچستان میں محفوظ ماحول فراہم کرنا مقامی و بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے اعتماد کے لیے ناگزیر ہے۔
انہوں نے کہا کہ دہشتگردی کے مکمل خاتمے کے لیے پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جدید تربیت اور نئی ٹیکنالوجی کا استعمال انتہائی اہم ہے۔ وزیراعظم نے بلوچستان کے نوجوانوں کو قومی دھارے میں شامل کرنے کے لیے تعلیمی مواقع، فنی تربیت، روزگار، اسپورٹس، اسکالرشپس اور ڈیجیٹل اسکلز پروگرامز کے فروغ پر زور دیا۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ نومبر 2024 سے اب تک بلوچستان میں پولیو کا کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا، جبکہ کینسر انسٹیٹیوٹ، ڈائلیسس اور ٹراما سینٹر سمیت متعدد صحت منصوبے فعال ہو چکے ہیں۔ مزید بتایا گیا کہ صوبے میں 99 فیصد اسکول کھلے ہیں اور تعلیمی سرگرمیاں جاری ہیں، جبکہ شمسی توانائی منصوبے سے 15 ہزار سے زائد گھروں کو فائدہ پہنچا اور اب تک تقریباً 105 ارب روپے کی بچت رپورٹ ہوئی ہے۔
اجلاس میں آرمی چیف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی، وفاقی وزراء اور متعلقہ اداروں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔