کوئٹہ: بلوچستان سے تعلق رکھنے والے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنماؤں نے بدھ کے روز وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کی، جس میں صوبے کی سیاسی صورتحال، صوبائی حکومت کی کارکردگی اور پارٹی کے اندرونی معاملات پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔
پارٹی ذرائع کے مطابق وفد میں سینیٹر میر دوستین خان ڈومکی، صوبائی وزیر نواب جنگیز خان مری اور سردار عبدالرحمان کھیتران شامل تھے۔
ملاقات کے دوران رہنماؤں نے مبینہ طور پر اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ بلوچستان حکومت میں اتحادی ہونے کے باوجود مسلم لیگ (ن) کے نمائندوں کو انتظامی معاملات میں نظرانداز کیا جا رہا ہے۔
وفد نے حکومت کی تشکیل کے وقت طے پانے والے ڈھائی سالہ پاور شیئرنگ فارمولے پر عملدرآمد کا معاملہ بھی اٹھایا اور وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ اس معاہدے پر عمل یقینی بنایا جائے تاکہ بلوچستان میں محرومی اور پسماندگی کے مسائل کو حل کیا جا سکے۔
ذرائع کے مطابق سردار عبدالرحمان کھیتران نے بعض محکموں میں بڑے پیمانے پر مبینہ کرپشن کے الزامات بھی عائد کیے، خاص طور پر رمضان ریلیف پیکیج میں بے ضابطگیوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے پی ڈی ایم اے کو “کرپشن کا مرکز” قرار دیا۔
اسی دوران نواب جنگیز خان مری نے وزیراعظم کو بتایا کہ مسلم لیگ (ن) کے وزراء اور اراکین اسمبلی کو انتظامی امور میں نظرانداز کیا جا رہا ہے، جس سے ان کے حلقوں میں ترقیاتی منصوبوں پر عملدرآمد متاثر ہو رہا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے وفد کو یقین دہانی کرائی کہ ان کے تحفظات اور شکایات پارٹی کی اعلیٰ قیادت تک پہنچائی جائیں گی تاکہ ان پر مزید غور کیا جا سکے۔