اسلام آباد — وزیراعظم محمد شہباز شریف نے پاکستان ریلوے کے جاری ترقیاتی منصوبوں کا اعلیٰ سطحی جائزہ لیتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ بڑے منصوبوں کی مالی منظوری پہلے سے مکمل کی جائے تاکہ کسی قسم کی تاخیر سے بچا جا سکے۔
اجلاس میں وزیراعظم نے ریلوے کی حالیہ بہتری کے اقدامات کو سراہتے ہوئے کہا کہ پائیدار ترقی کا انحصار مال بردار (فریٹ) نظام کی مضبوطی اور بڑے انفراسٹرکچر منصوبوں کی بروقت تکمیل پر ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ ادارہ جاتی اور مالی منصوبہ بندی پہلے سے منظور ہونا ضروری ہے تاکہ تعمیراتی مرحلے میں رکاوٹیں اور بیوروکریٹک تاخیر ختم کی جا سکے۔
اہم ریلوے منصوبوں پر پیش رفت
اجلاس میں ہدایت کی گئی کہ اہم منصوبوں—مین لائن-1 (ML-1)، مین لائن-3 (ML-3) اور تھر کول ریلوے لنک—کی تیز رفتار تکمیل کے لیے وفاقی اور صوبائی ادارے مکمل ہم آہنگی کے ساتھ کام کریں۔
وزیراعظم نے کہا کہ یہ میگا منصوبے قومی معیشت کے لیے انتہائی اہم ہیں اور ان کی بروقت تکمیل سے نہ صرف لاگت میں کمی آئے گی بلکہ عوامی وسائل کا بہتر استعمال بھی یقینی ہوگا۔
مالیاتی اہداف اور فریٹ ریونیو میں اضافہ
اجلاس میں بتایا گیا کہ اصلاحاتی اقدامات کے نتیجے میں پاکستان ریلوے کی مال بردار آمدنی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور توقع ہے کہ رواں سال جون تک یہ آمدن 40 ارب روپے تک پہنچ جائے گی۔
حکام نے وزیراعظم کو بریفنگ دی کہ کارگو آپریشنز میں اصلاحات کے باعث ادارے کی کارکردگی میں بہتری آ رہی ہے۔
اعلیٰ سطحی شرکت
اجلاس میں وفاقی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی، وفاقی وزیر اقتصادی امور اہد خان چیمہ، وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔