بلوچستان کے ضلع جھل مگسی میں ایم-8 ہائی وے پر مسافر کوچ کو پیش آنے والے خوفناک حادثے میں کم از کم آٹھ افراد جاں بحق جبکہ 30 سے زائد زخمی ہوگئے۔ حادثہ جمعرات کے روز باریجہ کے علاقے کے قریب پیش آیا۔
پولیس حکام کے مطابق مسافر کوچ خاران سے لاڑکانہ جارہی تھی کہ دوران سفر ڈرائیور سے گاڑی بے قابو ہوگئی اور شدید حادثے کا شکار ہوگئی۔ حادثے کے نتیجے میں کئی مسافر کوچ کے ملبے میں پھنس گئے۔
حادثے کے فوراً بعد ریسکیو اہلکاروں اور مقامی افراد نے امدادی کارروائیاں شروع کردیں اور زخمیوں کو کوچ سے نکال کر محفوظ مقامات پر منتقل کیا۔
ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر علی مگسی کے مطابق زخمیوں کو فوری طبی امداد کے لیے بی ایچ یو باریجہ منتقل کیا گیا، جبکہ جاں بحق افراد کی لاشیں بھی اسپتال پہنچائی گئیں۔ جاں بحق ہونے والوں میں ایک خاتون اور ایک بچہ بھی شامل ہیں۔
طبی حکام کا کہنا ہے کہ سات زخمیوں کی حالت تشویشناک ہونے کے باعث انہیں مزید علاج کے لیے لاڑکانہ کے اسپتالوں میں منتقل کردیا گیا۔
ریسکیو حکام کے مطابق علاقے میں ایمبولینسوں اور طبی سہولیات کی کمی کے باعث امدادی کارروائیوں میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، تاہم امدادی ٹیموں نے زخمیوں کے انخلا اور مدد کا عمل جاری رکھا۔
دوسری جانب پولیس نے حادثے کی اطلاع ملتے ہی جائے وقوعہ پر پہنچ کر علاقے کو گھیرے میں لے لیا اور واقعے کی تحقیقات شروع کردیں۔
حکام کے مطابق تاحال یہ واضح نہیں ہوسکا کہ حادثہ تیز رفتاری، فنی خرابی یا سڑک کی خراب صورتحال کے باعث پیش آیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ عینی شاہدین کے بیانات اور گاڑی کے معائنے کے بعد مزید تفصیلات جاری کی جائیں گی۔
پاکستان میں مختلف شاہراہوں پر ٹریفک حادثات ایک سنگین مسئلہ بنتے جارہے ہیں، خصوصاً ان علاقوں میں جہاں ہنگامی طبی سہولیات اور حفاظتی اقدامات ناکافی ہیں۔