پاک قطر ثالثی: امریکا اور ایران کا 60 روز میں حتمی معاہدے پر اتفاق

پاک قطر ثالثی: امریکا اور ایران کا 60 روز میں حتمی معاہدے پر اتفاق

سوئٹزرلینڈ مذاکرات میں بڑی پیش رفت؛ آبنائے ہرمز اور لبنان کے لیے خصوصی ورکنگ گروپس قائم

برگن اسٹاک، سوئٹزرلینڈ — ایران اور امریکا کے درمیان جاری دیرینہ کشیدگی میں اس وقت ایک بڑی سفارتی پیش رفت سامنے آئی ہے جب سوئٹزرلینڈ کے شہر برگن اسٹاک میں اعلیٰ سطح کے مذاکرات کا پہلا دور کامیابی سے مکمل ہو گیا۔ یہ مذاکرات 'اسلام آباد مفاہمتی یادداشت' کے تحت پاکستان اور قطر کی مشترکہ ثالثی میں منعقد ہوئے، جس کا مقصد خطے میں پائیدار امن کا قیام ہے۔


پاکستان اور قطر کے دفاترِ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ مشترکہ اعلامیے کے مطابق، لیک لوسرن سمٹ انتہائی مثبت اور تعمیری ماحول میں منعقد ہوئی۔ اس چار فریقی اجلاس میں پاکستان، قطر، ایران اور امریکا کے اعلیٰ سطح کے وفود نے شرکت کی اور خطے کو جنگ کے بادلوں سے نکالنے کے لیے ایک جامع روڈ میپ پر دستخط کیے۔

مشترکہ اعلامیے کے اہم نکات اور فیصلے

مذاکرات کے بعد جاری ہونے والے اعلامیے میں درج ذیل اہم ترین فیصلوں کی توثیق کی گئی ہے:


60 روزہ حتمی روڈ میپ: فریقین نے آئندہ 60 دنوں کے اندر ایک حتمی اور جامع امن معاہدے تک پہنچنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔


آبنائے ہرمز کے لیے ہاٹ لائن: کسی بھی ممکنہ غلط فہمی سے بچنے اور آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کی محفوظ آمدورفت یقینی بنانے کے لیے براہِ راست رابطہ نظام (ہاٹ لائن) قائم کر دیا گیا ہے۔


لبنان کشیدگی کا خاتمہ: لبنان میں جاری فوجی کارروائیوں اور کشیدگی کو مستقل طور پر روکنے کے لیے ایک خصوصی سیل قائم کیا گیا ہے، جس میں ثالث ممالک معاونت فراہم کریں گے۔


سیاسی نگرانی کمیٹی: پورے عمل کی مانیٹرنگ کے لیے ایک اعلیٰ سطح کمیٹی بنائی گئی ہے، جسے چیف مذاکرات کار باقاعدگی سے رپورٹ پیش کریں گے۔

جوہری امور اور پابندیوں پر ٹیکنیکل گروپس کا قیام

اعلامیے کے مطابق، دونوں ممالک کے مابین سب سے اہم تنازعات یعنی جوہری امور، اقتصادی پابندیوں اور علاقائی سیکیورٹی کے مستقل حل کے لیے ماہرین پر مشتمل خصوصی ورکنگ گروپس تشکیل دے دیے گئے ہیں۔


برگن اسٹاک میں اعلیٰ سطح کا دور مکمل ہونے کے بعد اب تکنیکی نوعیت کے مذاکرات آئندہ ہفتے کے اختتام تک جاری رہیں گے۔ پاکستان اور قطر نے ایران اور امریکا کے پُرامن حل کے عزم کو سراہتے ہوئے دونوں برادر ممالک کے مثبت رویے پر تشکر کا اظہار کیا ہے۔