بین الاقوامی زیتون کونسل میں پاکستان کی مستقل رکن کے طور پر باقاعدہ شمولیت

بین الاقوامی زیتون کونسل میں پاکستان کی مستقل رکن کے طور پر باقاعدہ شمولیت

Jul 1, 2026|ویب ڈیسک

لزبن اجلاس: وفاقی وزیر رانا تنویر کا کونسل سے خطاب، ملک میں 70 لاکھ سے زائد زیتون کے درختوں کی کاشت کا انکشاف

لزبن — پاکستان نے پرتگال کے دارالحکومت لزبن میں منعقدہ بین الاقوامی زیتون کونسل (IOC) کے 123ویں اجلاس میں مستقل رکن کی حیثیت سے اپنی نشست سنبھال کر ایک بڑی عالمی اور زرعی کامیابی حاصل کر لی ہے۔ اقوامِ متحدہ کے زیرِ انتظام اس باوقار کونسل کے اجلاس میں پاکستانی وفد کی قیادت وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین کر رہے ہیں، جبکہ پرتگال میں پاکستان کی سفیر عائشہ فاروقی بھی ان کے ہمراہ وفد میں شامل ہیں۔


ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق، پاکستان کو رواں سال مئی کے مہینے میں بین الاقوامی زیتون کونسل کی مستقل رکنیت تفویض کی گئی تھی۔ اجلاس کے آغاز پر کونسل کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر، چیئرمین اور تمام رکن ممالک نے مستقل نشست سنبھالنے پر پاکستان کا والہانہ خیرمقدم کیا۔

'کھیت سے صارف تک' زیتون کی مکمل ویلیو چین کا قیام

وفاقی وزیر رانا تنویر حسین نے کونسل کے اراکین سے اپنے باضابطہ خطاب میں پاکستان کی مستقل لسٹنگ پر کونسل کی قیادت اور رکن ممالک کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے عالمی برادری کو پاکستان میں زیتون کی کاشت کے حوالے سے ہونے والی انقلابی پیش رفت سے آگاہ کیا۔


"پاکستان میں اب تک 70 لاکھ سے زائد زیتون کے درخت کامیابی سے کاشت کیے جا چکے ہیں۔ حکومت نے ملک میں کھیت سے لے کر صارف تک زیتون کی پروسیسنگ اور سپلائی کی مکمل ویلیو چین قائم کر دی ہے، جس سے مقامی پیداوار میں غیر معمولی اضافہ ہو رہا ہے۔"

بین الاقوامی زیتون کونسل اجلاس کے اہم ترین نکات:

مستقل عسکری و سفارتی فتح: کونسل کی مستقل رکنیت ملنے سے پاکستان کو زیتون کی عالمی پالیسی سازی اور فیصلوں میں ووٹ کا حق مل گیا ہے۔


عالمی امداد اور ٹیکنالوجی: مستقل رکن بننے کے بعد پاکستان کو جدید ترین زرعی ٹیکنالوجی، زیتون کی پریسنگ مشینوں اور بین الاقوامی ماہرین تک براہِ راست رسائی حاصل ہو گی۔


70 لاکھ درختوں کا ہدف: ملک کے بارانی اور موزوں علاقوں میں لاکھوں درختوں کی شجرکاری ملکی معیشت کے لیے گیم چینجر ثابت ہو رہی ہے۔


معاشی ماہرین کے مطابق، بین الاقوامی زیتون کونسل میں مستقل نشست حاصل کرنے سے پاکستان نہ صرف زیتون کے تیل کی درآمد پر خرچ ہونے والا قیمتی زرمبادلہ بچا سکے گا، بلکہ مستقبل قریب میں زیتون کے اعلیٰ معیار کے تیل کو عالمی منڈیوں میں برآمد کرنے کے قابل بھی ہو جائے گا