ڈوشنبے: علاقائی روابط اور اقتصادی تعلقات کو مضبوط بنانے کے ایک اہم اقدام کے طور پر پاکستان اور تاجکستان نے تاجک دارالحکومت ڈوشنبے میں منعقدہ مشترکہ وزارتی کمیشن کے 8ویں اجلاس کو کامیابی سے مکمل کر لیا۔ اس اعلیٰ سطحی اجلاس میں دوطرفہ تجارت، سرمایہ کاری، توانائی تعاون، زراعت اور علاقائی انضمام کو وسعت دینے پر توجہ دی گئی۔
پاکستانی وفد کی قیادت وفاقی وزیر برائے توانائی سردار اویس لغاری نے کی، جبکہ تاجک فریق کی مشترکہ صدارت وزیر برائے توانائی و آبی وسائل دالر جمعہ شفیقیر نے کی۔
کاسا-1000 منصوبے اور توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری پر توجہ
اجلاس کے دوران دونوں ممالک نے ایک اسٹریٹجک روڈ میپ کو حتمی شکل دی جس کا مقصد دوطرفہ تجارت کو 20 کروڑ امریکی ڈالر تک بڑھانا ہے۔ دونوں فریقوں نے بزنس ٹو بزنس (B2B) ملاقاتوں کے فروغ، آن لائن کاروباری روابط میں اضافے، اور ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان (TDAP) اور تاجکستان کی ایکسپورٹ ایجنسی کے درمیان مفاہمتی یادداشت کی تکمیل کا خیرمقدم کیا۔ ترجیحی تجارتی معاہدے (PTA) پر مذاکرات بھی آگے بڑھائے گئے۔
اہم توانائی نکتہ:
کمیشن نے کاسا-1000 بجلی منصوبے کی موجودہ پیش رفت کو سراہا اور اس کی بروقت تکمیل کو علاقائی توانائی ضروریات کے لیے انتہائی اہم قرار دیا۔ مزید برآں، تاجکستان نے پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ (PPL) اور او جی ڈی سی ایل کے لیے تیل و گیس کے شعبے میں سرمایہ کاری کے پرکشش مواقع فراہم کرنے میں گہری دلچسپی ظاہر کی۔ زراعت، تعلیم، سائنس اور ٹیکنالوجی میں تعاون کے نئے مواقع پر بھی اتفاق کیا گیا۔
وزیر اویس لغاری کی تاجک وزیر اعظم سے ملاقات
اجلاس کے موقع پر وفاقی وزیر برائے توانائی سردار اویس لغاری نے تاجکستان کے وزیر اعظم قاہر رسول زادہ سے ملاقات کی اور پاکستان کی قیادت کی جانب سے نیک خواہشات پہنچائیں۔
ملاقات میں کاسا-1000 منصوبے کو تیز کرنے، تجارتی رکاوٹوں کے خاتمے، اسلام آباد/لاہور اور ڈوشنبے کے درمیان براہ راست پروازوں کے آغاز، اور ویزا سہولت کو بہتر بنانے پر بات چیت کی گئی تاکہ سیاحت اور عوامی روابط کو فروغ دیا جا سکے۔