وزیراعظم شہباز شریف کے تاریخی دورۂ چین کے اختتام پر CPEC 2.0، دفاعی تعاون اور خلائی شعبے میں بڑے معاہدے
اسلام آباد / بیجنگ: پاکستان اور چین کے درمیان سفارتی تعلقات کے 75 سال مکمل ہونے پر دونوں ممالک نے اپنی لازوال دوستی کو ایک نئے دور میں داخل کرتے ہوئے دفاع، معیشت، سکیورٹی اور خلائی تعاون کے فروغ کے لیے جامع 5 سالہ ایکشن پلان کا آغاز کر دیا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف کے سرکاری دورۂ چین کے اختتام پر جاری مشترکہ اعلامیے کے مطابق دونوں ممالک نے اسٹریٹجک تعاون کو مزید وسعت دینے پر اتفاق کیا۔
پاکستانی خلا باز چینی اسپیس اسٹیشن بھیجا جائے گا
خلائی تحقیق کے شعبے میں ایک تاریخی پیش رفت کے طور پر چین نے دو پاکستانی خلا بازوں کی تربیت کے منصوبے کا خیرمقدم کیا ہے جبکہ ایک پاکستانی خلا باز کو چینی اسپیس اسٹیشن بھیجنے کی تیاری بھی کی جائے گی۔
CPEC 2.0، گوادر اور مصنوعی ذہانت پر تعاون
چینی صدر شی جن پنگ اور وزیراعظم شہباز شریف کے درمیان اعلیٰ سطحی ملاقاتوں میں CPEC 2.0 کے تحت ترقیاتی منصوبوں کو تیز کرنے پر اتفاق کیا گیا۔
اس اسٹریٹجک تعاون کے اہم نکات میں شامل ہیں:
- انفراسٹرکچر اور تجارتی راہداریوں کی ترقی: گوادر پورٹ کی توسیع اور خنجراب پاس کی سال بھر فعالیت کو بہتر بنانا۔
- ٹیکنالوجی اور صنعتی تعاون: اسپیشل اکنامک زونز (SEZs)، جدید زراعت، ڈیجیٹل اکانومی اور مصنوعی ذہانت (AI) میں مشترکہ منصوبے۔
- تجارتی سہولیات: چین پاکستانی زرعی مصنوعات کے لیے اپنی منڈیوں تک رسائی آسان بنائے گا جبکہ پاکستانی افرادی قوت کے لیے 3 ہزار تربیتی مواقع بھی فراہم کیے جائیں گے۔
خودمختاری اور علاقائی سلامتی پر باہمی حمایت
مشترکہ اعلامیے میں دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے بنیادی قومی مفادات کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا۔ پاکستان نے سنکیانگ، ہانگ کانگ اور جنوبی بحیرہ چین کے معاملات پر چین کے مؤقف کی حمایت کی جبکہ چین نے پاکستان کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور قومی سلامتی کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ دورہ خطے میں معاشی اور اسٹریٹجک تعاون کے ایک نئے باب کا آغاز ثابت ہوگا۔