بلوچستان میں 400 سے زائد قیمتی سرکاری بھیڑوں کا اغوا کروڑوں کا نقصان ہوا ہے
بلوچستان کے ضلع پشین کے سرحدی علاقے میں محکمہ لائیوسٹاک کی چار سو سے زائد بھیڑیں چھینے جانے کا واقعہ پیش آیا ہے جس میں سرکاری حکام کے مطابق مسلخ کے علاقے میں قائم فارم کے ملازمین کو یرغمال بنانے کے بعد مسلح افراد بھیڑیں ہانکتے ہوئے نامعلوم مقام کی جانب لے گئے۔
اس فارم پر قرہ قل نسل کی بھیڑوں کی افزائش ہوتی تھی جن کی کھالیں قرہ قلی ٹوپی یا جناح کیپ بنانے کے لیے استعمال ہوتی ہیں۔
سرکاری حکام کے مطابق مسلخ فارم میں پیش آنے والے واقعے کی ایف آئی آر درج کرکے تحقیقات کا آغاز کردیا گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں کسی سرکاری فارم سے اتنی بڑی تعداد میں بھیڑوں کو چھیننے کا یہ پہلا واقعہ ہے۔
بی بی سی نے اس واقعے کی معلومات کے لیے جب محکمہ لائیو سٹاک کے وزیر میر فیصل خان جمالی سے رابطہ کیا تو انھوں نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ محکمہ لائیو سٹاک اس معاملے کو دیکھ رہا ہے