بجلی کی بڑھتی ہوئی طلب اور پاور سیکٹر کی ضروریات پوری کرنے کے لیے گیس درآمد کرنے کی اجازت
اسلام آباد — مشرقِ وسطیٰ میں جاری شدید کشیدہ صورتحال اور ممکنہ سپلائی چین کے تعطل کے پیشِ نظر، پاکستان نے ملک میں توانائی کا توازن برقرار رکھنے کے لیے ایل این جی (LNG) کے دو کارگوز محفوظ کر لیے ہیں۔
ذرائع کے مطابق، حاصل کردہ کارگوز میں سے ایک اسپاٹ کارگو سنگاپور مارکیٹ سے تقریباً 19 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو (MMBtu) کی قیمت پر خریدا گیا ہے۔ یہ کارگو 6 یا 7 جون تک پورٹ قاسم ٹرمینل پر لنگر انداز ہونے کی توقع ہے۔
قطر کے ساتھ طویل المدتی معاہدہ اور مئی کی سپلائی کا تسلسل
حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ دوسرا ایل این جی کارگو قطر کے ساتھ طے شدہ طویل المدتی اسٹریٹجک معاہدے کے تحت منگوایا جا رہا ہے۔ واضح رہے کہ اس سے قبل مئی کے مہینے میں بھی پاکستان کو قطر سے تین ایل این جی کارگوز موصول ہو چکے ہیں، جس سے ملکی سپلائی کو سہارا ملا۔
ملک میں گرمی کی شدت اور پاور سیکٹر میں بجلی کی بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کرنے کے لیے حکومت نے ایل این جی کی درآمدات میں فوری اضافے کی باقاعدہ اجازت دی ہے۔
مقامی پیداواری رکاوٹیں اور لاگت کی وصولی کا طریقہ کار
اہم نکتہ: ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ کارگوز 'مکمل لاگت وصولی' (Full Cost Recovery) کی بنیاد پر درآمد کیے جا رہے ہیں تاکہ قومی خزانے پر اضافی بوجھ نہ پڑے۔
یہ ہنگامی اقدامات سکیورٹی خدشات اور تکنیکی مسائل کے باعث مقامی گیس کی پیداوار میں آنے والی حالیہ رکاوٹوں کو مدنظر رکھتے ہوئے کیے گئے ہیں، تاکہ ملک گیر سطح پر لوڈ شیڈنگ کے بحران سے بچا جا سکے۔