مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر فعال جنگی صورتحال میں داخل ہو گیا ہے جب ایران نے اسرائیلی فوجی اڈوں کو نشانہ بناتے ہوئے بڑے پیمانے پر براہِ راست میزائل حملہ کیا۔ اس شدید کشیدگی کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فوری سفارتی مداخلت کرتے ہوئے اسرائیلی وزیرِاعظم بنجمن نیتن یاہو سے ٹیلیفونک رابطہ کیا اور انہیں ایران پر مزید جوابی حملوں سے باز رہنے کی سخت ہدایت دی۔
یہ کارروائی مبینہ طور پر اپریل میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد ایران کی جانب سے اسرائیل پر پہلا بڑا براہِ راست فوجی حملہ قرار دی جا رہی ہے۔ ایرانی پاسدارانِ انقلاب (IRGC) نے کہا ہے کہ یہ میزائل حملے اسرائیل کی جانب سے بیروت اور جنوبی لبنان پر مسلسل بمباری کا “براہِ راست اور منظم ردعمل” ہیں۔
براہِ راست جھڑپیں اور جوابی دعوے
ایران کے حملے کے بعد اسرائیل نے بھی ایران کے اندر جوابی کارروائیوں کا دعویٰ کیا ہے۔ مقامی میڈیا کے مطابق تہران، تبریز اور اصفہان میں زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔
پاسدارانِ انقلاب نے تل ابیب کو سخت انتباہ دیتے ہوئے کہا:
“اگر اسرائیل لبنان میں اپنی فوجی کارروائیاں بڑھاتا ہے یا ایرانی سرزمین پر مزید جارحیت کرتا ہے تو ہمارا اگلا جواب کہیں زیادہ شدید ہوگا۔”
ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے مشیر محسن رضائی نے بھی کہا کہ واشنگٹن کو بارہا خبردار کیا گیا تھا کہ لبنان کو نشانہ بنانے اور جنگ بندی کی خلاف ورزی کے نتائج ہوں گے۔ انہوں نے کہا: “جارح کو آج رات اس کا جواب مل گیا ہے۔”
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مداخلت
بگڑتی ہوئی صورتحال پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسرائیل کی جانب سے بیروت پر شدید بمباری پر عدم اطمینان ظاہر کیا۔
اسرائیل کو ہدایت: ہنگامی ٹیلیفونک گفتگو میں صدر ٹرمپ نے وزیراعظم نیتن یاہو کو واضح طور پر کہا کہ ایران پر مزید جوابی کارروائیاں روکی جائیں تاکہ خطہ مکمل جنگ کی طرف نہ جائے۔
ایران کو پیغام: ٹرمپ نے ایرانی قیادت سے بھی کہا کہ میزائل حملوں کا سلسلہ اب روک کر مذاکرات کی میز پر واپس آیا جائے۔
حتمی معاہدے کی امید: امریکی صدر نے کہا کہ امریکہ خطے میں ایک “حتمی اور تاریخی معاہدے” کے قریب ہے اور وہ کسی بھی صورت موجودہ کشیدگی کو سفارتی پیش رفت کے راستے میں حائل نہیں ہونے دیں گے۔