پاکستان نے بحری خودانحصاری کی جانب ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے نیشنل ڈریجنگ اینڈ میرین سروسز (NDMS) اور پورٹ قاسم اتھارٹی کے درمیان ایک تاریخی ڈریجنگ معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں۔
اس اسٹریٹجک منصوبے سے پاکستان کی غیر ملکی ڈریجنگ کمپنیوں پر انحصار میں نمایاں کمی آئے گی، جس سے قیمتی زرمبادلہ کی بچت کے ساتھ ملکی بندرگاہی انفراسٹرکچر کو جدید خطوط پر استوار کرنے میں مدد ملے گی۔
معاہدے کی تقریب
معاہدے کی دستخطی تقریب نیشنل لاجسٹکس کارپوریشن (NLC) ہیڈکوارٹر میں منعقد ہوئی، جس میں وفاقی وزیر برائے بحری امور محمد جنید انور چوہدری نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔
تقریب میں پورٹ قاسم اتھارٹی، کراچی پورٹ ٹرسٹ (KPT)، گوادر پورٹ اتھارٹی (GPA) اور این ڈی ایم ایس کے اعلیٰ حکام اور بورڈ اراکین بھی موجود تھے۔
پورٹ قاسم کی استعداد میں اضافہ
حکام کے مطابق ڈریجنگ منصوبہ پورٹ قاسم کی توسیع اور گہرے سمندری جہاز رانی کے راستوں کو بہتر بنانے میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔
چینلز کو مزید گہرا کرنے سے بڑے کارگو جہازوں کی آمد و رفت اور برتھنگ آسان ہو جائے گی، جس سے بندرگاہ کی مجموعی آپریشنل استعداد میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔
“قومی ڈریجنگ کمپنی کا قیام اور اس کا فعال ہونا پاکستان کے لیے باعثِ فخر ہے۔ یہ منصوبہ علاقائی اور بین الاقوامی تجارت کے فروغ میں بنیادی کردار ادا کرے گا۔”
— وفاقی وزیر محمد جنید انور چوہدری
بلیو اکانومی کی جانب پیش رفت
وفاقی وزیر نے کہا کہ بحری انجینئرنگ اور ڈریجنگ کے شعبے میں خودکفالت حاصل کرنا پاکستان کی “بلیو اکانومی” حکمتِ عملی کا اہم حصہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ مقامی تکنیکی مہارت کو فروغ دے کر اور بحری سرمایہ ملک کے اندر رکھ کر پاکستان نہ صرف اپنے عالمی تجارتی راستوں کو محفوظ بنا رہا ہے بلکہ بین الاقوامی تجارت میں طویل المدتی معاشی استحکام کی بنیاد بھی رکھ رہا ہے۔