تازہ ترین
بلوچستان میں ایماندار افسران کب تک انتقام کا نشانہ بنتے رہیں گے؟ کالعدم بی ایل اے کا ’خواتین نیٹ ورک‘: خودکش حملوں اور دہشت گردی کے لیے برین واشنگ کے طریقہ کار کا پردہ چاک فتنہ الہندوستان کے خلاف ایف سی بلوچستان (ساؤتھ)کی تابر توڑ کاروائیاں مشرقِ وسطیٰ میں نیا تنازع شدت اختیار کر گیا، ایران کا اسرائیل پر بڑا میزائل حملہ؛ ٹرمپ کی فوری سفارتی مداخلت کوئٹہ تیزاب حملہ ڈاکٹر ماہ نور کی حالت مستحکم، بینائی محفوظ، اے کے یو ایچ میں علاج جاری رخنی کو جدید ماڈل ڈویژنل سٹی بنانے کا فیصلہ، اہم ترقیاتی منصوبوں کی منظوری ڈاکٹر ماہ نور پر تیزاب حملہ: ماہرہ خان، یاسر حسین سمیت فنکاروں کا شدید ردعمل، انصاف کا مطالبہ آصفہ بھٹو زرداری کی ڈاکٹر ماہ نور نثار پر تیزاب حملے کی شدید مذمت "پاکستان آپ کے ساتھ کھڑا ہے" — وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کی ڈاکٹر ماہ نور نثار سے ملاقات ویمن پارلیمنٹری کاکس بلوچستان کی کوئٹہ میں خاتون ڈاکٹر پر تیزاب حملے کی شدید مذمت تیزاب حملے کے بعد ڈاکٹر ماہ نور نثار کی مدد کرنے والے عبدالرزاق ترکئی کے لیے سول ایوارڈ کا اعلان فلپائن میں شدید زلزلہ: 5 افراد ہلاک، متعدد زخمی، سرکاری میڈیا کی تصدیق پاک افغان تجارت کی معطلی سے افغان کسان شدید مالی بحران کا شکار گلگت بلتستان اسمبلی انتخابات: غیر حتمی نتائج میں پیپلز پارٹی کی واضح برتری، 9 نشستیں اپنے نام کر لیں جرمنی کے الیگزینڈر زیوریو نے فرنچ اوپن 2026ء جیت لیا معاذ صداقت اپینڈکس سرجری کے بعد دو ہفتے کے لیے کرکٹ سے باہر
بلوچستان خبر

بنوں میں بڑا سیکیورٹی آپریشن: 16 دہشتگرد ہلاک، دو اہم کمانڈرز سمیت

بنوں میں بڑا سیکیورٹی آپریشن: 16 دہشتگرد ہلاک، دو اہم کمانڈرز سمیت

بنوں (ویب ڈیسک): سیکیورٹی فورسز، کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) اور پولیس کے مشترکہ انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن میں 16 دہشتگرد ہلاک کر دیے گئے، جن میں دو اہم کمانڈرز بھی شامل ہیں۔ کارروائی کے دوران دو پولیس اہلکار بھی شہید ہو گئے۔

آپریشن کی تفصیلات

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق یہ آپریشن بنوں کے علاقے مریاں میں خفیہ اطلاعات پر شروع کیا گیا، جہاں دہشتگردوں کی موجودگی کی اطلاع ملی تھی۔

جیسے ہی مشترکہ ٹیم نے علاقے کو گھیرے میں لیا، چھپے ہوئے دہشتگردوں نے شدید فائرنگ شروع کر دی۔ کئی گھنٹوں تک جاری رہنے والی جھڑپ میں 16 دہشتگرد مارے گئے۔

اہم کمانڈرز کی ہلاکت

ہلاک ہونے والوں میں اہم دہشتگرد کمانڈر زمرئی نور شامل ہے، جو علاقے میں ٹارگٹ کلنگ اور خوف پھیلانے میں ملوث تھا، جبکہ دوسرا افغان کمانڈر عبداللہ سعید بھی مارا گیا۔

سیکیورٹی فورسز نے کارروائی کے دوران دہشتگردوں کے کئی محفوظ ٹھکانے بھی تباہ کر دیے۔

پولیس اہلکاروں کی شہادت

آپریشن کے دوران دو پولیس اہلکار—کانسٹیبل وحیداللہ خان اور کانسٹیبل نوراللہ خان—شہید ہو گئے۔

ان کی نمازِ جنازہ بنوں پولیس لائنز میں سرکاری اور فوجی اعزاز کے ساتھ ادا کی گئی، جس میں اعلیٰ سول و عسکری حکام، پولیس افسران، قبائلی عمائدین اور شہریوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

سیکیورٹی اداروں کا مؤقف

حکام نے کہا ہے کہ فتنہ الخوارج کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی اور علاقے سے دہشتگردی کے مکمل خاتمے تک آپریشنز میں کوئی کمی نہیں آئے گی۔