راولپنڈی: بلوچستان کے ضلع بارکھان میں سینیٹائزیشن آپریشن کے دوران پاک فوج کے ایک میجر اور چار جوان شہید جبکہ سات دہشت گرد ہلاک ہوگئے، پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے بدھ کے روز بتایا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق پاکستان آرمی اور فرنٹیئر کور بلوچستان نے 13 مئی 2026 کو بارکھان کے علاقے نوشم میں دہشت گردوں کے خاتمے کے لیے سینیٹائزیشن آپریشن کیا۔ فوج کے مطابق یہ دہشت گرد ریاست کے بقول “بھارت کے حمایت یافتہ فتنہ الہندوستان” سے تعلق رکھتے تھے۔
بیان میں کہا گیا کہ سیکیورٹی فورسز نے کارروائی کے دوران دہشت گردوں کے ایک گروہ کا سراغ لگا کر انہیں نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں شدید فائرنگ کے تبادلے میں سات دہشت گرد مارے گئے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق ہلاک دہشت گردوں کے قبضے سے اسلحہ، گولہ بارود اور دھماکا خیز مواد بھی برآمد کیا گیا۔
آپریشن کے دوران 31 سالہ میجر بھٹی، جو پاکپتن کے رہائشی تھے، اپنے جوانوں کی قیادت کرتے ہوئے شہادت کے رتبے پر فائز ہوئے۔
دیگر شہداء میں 36 سالہ نائیک فدا حسین سکھر سے، 32 سالہ سپاہی ذاکر حسین اسکردو سے، 21 سالہ سپاہی سہیل احمد خانیوال سے، اور 24 سالہ سپاہی محمد ایاز رحیم یار خان سے تعلق رکھتے تھے۔
آئی ایس پی آر نے بتایا کہ علاقے میں موجود باقی دہشت گردوں کے خاتمے کے لیے گرد و نواح میں سینیٹائزیشن آپریشن جاری ہے۔
فوج نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ قومی وژن “عزمِ استحکام” کے تحت دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں پوری قوت کے ساتھ جاری رکھی جائیں گی تاکہ ملک سے بیرونی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی کا خاتمہ کیا جا سکے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے بارکھان میں دہشت گردوں کے خلاف کامیاب کارروائی پر سیکیورٹی فورسز کے افسران اور اہلکاروں کو خراج تحسین پیش کیا۔
وزیراعظم آفس سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم نے شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے ان کے درجات کی بلندی کے لیے دعا کی اور اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔
وزیراعظم نے کہا، “وطن کے ان بہادر سپوتوں نے ملک کے دفاع میں وفاداری اور قربانی کی عظیم مثال قائم کی ہے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستانی قوم اپنے شہداء کی قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کرے گی اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پوری قوم اپنی مسلح افواج کے ساتھ کھڑی ہے۔