تازہ ترین
بلوچستان میں ایماندار افسران کب تک انتقام کا نشانہ بنتے رہیں گے؟ کالعدم بی ایل اے کا ’خواتین نیٹ ورک‘: خودکش حملوں اور دہشت گردی کے لیے برین واشنگ کے طریقہ کار کا پردہ چاک فتنہ الہندوستان کے خلاف ایف سی بلوچستان (ساؤتھ)کی تابر توڑ کاروائیاں مشرقِ وسطیٰ میں نیا تنازع شدت اختیار کر گیا، ایران کا اسرائیل پر بڑا میزائل حملہ؛ ٹرمپ کی فوری سفارتی مداخلت کوئٹہ تیزاب حملہ ڈاکٹر ماہ نور کی حالت مستحکم، بینائی محفوظ، اے کے یو ایچ میں علاج جاری رخنی کو جدید ماڈل ڈویژنل سٹی بنانے کا فیصلہ، اہم ترقیاتی منصوبوں کی منظوری ڈاکٹر ماہ نور پر تیزاب حملہ: ماہرہ خان، یاسر حسین سمیت فنکاروں کا شدید ردعمل، انصاف کا مطالبہ آصفہ بھٹو زرداری کی ڈاکٹر ماہ نور نثار پر تیزاب حملے کی شدید مذمت "پاکستان آپ کے ساتھ کھڑا ہے" — وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کی ڈاکٹر ماہ نور نثار سے ملاقات ویمن پارلیمنٹری کاکس بلوچستان کی کوئٹہ میں خاتون ڈاکٹر پر تیزاب حملے کی شدید مذمت تیزاب حملے کے بعد ڈاکٹر ماہ نور نثار کی مدد کرنے والے عبدالرزاق ترکئی کے لیے سول ایوارڈ کا اعلان فلپائن میں شدید زلزلہ: 5 افراد ہلاک، متعدد زخمی، سرکاری میڈیا کی تصدیق پاک افغان تجارت کی معطلی سے افغان کسان شدید مالی بحران کا شکار گلگت بلتستان اسمبلی انتخابات: غیر حتمی نتائج میں پیپلز پارٹی کی واضح برتری، 9 نشستیں اپنے نام کر لیں جرمنی کے الیگزینڈر زیوریو نے فرنچ اوپن 2026ء جیت لیا معاذ صداقت اپینڈکس سرجری کے بعد دو ہفتے کے لیے کرکٹ سے باہر
بلوچستان خبر

راولپنڈی: بلوچستان کے ضلع بارکھان میں سینیٹائزیشن آپریشن کے دوران پاک فوج کے ایک میجر اور چار جوان شہید جبکہ سات دہشت گرد ہلاک ہوگئے

راولپنڈی: بلوچستان کے ضلع بارکھان میں سینیٹائزیشن آپریشن کے دوران پاک فوج کے ایک میجر اور چار جوان شہید جبکہ سات دہشت گرد ہلاک ہوگئے

راولپنڈی: بلوچستان کے ضلع بارکھان میں سینیٹائزیشن آپریشن کے دوران پاک فوج کے ایک میجر اور چار جوان شہید جبکہ سات دہشت گرد ہلاک ہوگئے، پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے بدھ کے روز بتایا۔

آئی ایس پی آر کے مطابق پاکستان آرمی اور فرنٹیئر کور بلوچستان نے 13 مئی 2026 کو بارکھان کے علاقے نوشم میں دہشت گردوں کے خاتمے کے لیے سینیٹائزیشن آپریشن کیا۔ فوج کے مطابق یہ دہشت گرد ریاست کے بقول “بھارت کے حمایت یافتہ فتنہ الہندوستان” سے تعلق رکھتے تھے۔

بیان میں کہا گیا کہ سیکیورٹی فورسز نے کارروائی کے دوران دہشت گردوں کے ایک گروہ کا سراغ لگا کر انہیں نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں شدید فائرنگ کے تبادلے میں سات دہشت گرد مارے گئے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق ہلاک دہشت گردوں کے قبضے سے اسلحہ، گولہ بارود اور دھماکا خیز مواد بھی برآمد کیا گیا۔

آپریشن کے دوران 31 سالہ میجر بھٹی، جو پاکپتن کے رہائشی تھے، اپنے جوانوں کی قیادت کرتے ہوئے شہادت کے رتبے پر فائز ہوئے۔

دیگر شہداء میں 36 سالہ نائیک فدا حسین سکھر سے، 32 سالہ سپاہی ذاکر حسین اسکردو سے، 21 سالہ سپاہی سہیل احمد خانیوال سے، اور 24 سالہ سپاہی محمد ایاز رحیم یار خان سے تعلق رکھتے تھے۔

آئی ایس پی آر نے بتایا کہ علاقے میں موجود باقی دہشت گردوں کے خاتمے کے لیے گرد و نواح میں سینیٹائزیشن آپریشن جاری ہے۔

فوج نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ قومی وژن “عزمِ استحکام” کے تحت دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں پوری قوت کے ساتھ جاری رکھی جائیں گی تاکہ ملک سے بیرونی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی کا خاتمہ کیا جا سکے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے بارکھان میں دہشت گردوں کے خلاف کامیاب کارروائی پر سیکیورٹی فورسز کے افسران اور اہلکاروں کو خراج تحسین پیش کیا۔

وزیراعظم آفس سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم نے شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے ان کے درجات کی بلندی کے لیے دعا کی اور اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔

وزیراعظم نے کہا، “وطن کے ان بہادر سپوتوں نے ملک کے دفاع میں وفاداری اور قربانی کی عظیم مثال قائم کی ہے۔”

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستانی قوم اپنے شہداء کی قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کرے گی اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پوری قوم اپنی مسلح افواج کے ساتھ کھڑی ہے۔