لاہور ورکشاپ: بلوچستان کی کوریج میں مین اسٹریم میڈیا کی کمی شدت پسندی کو فروغ دے رہی ہے، ذمہ دار صحافت پر زور
لاہور: ماہرین، صحافیوں اور تعلیمی شخصیات نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا ہے کہ قومی مین اسٹریم میڈیا بلوچستان میں ہونے والی سماجی، ثقافتی اور سیاسی تبدیلیوں کو مناسب انداز میں اجاگر نہیں کر رہا، جس کے باعث شدت پسندی اور غلط فہمیوں میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
یہ بات لاہور میں منعقدہ ایک خصوصی تربیتی ورکشاپ کے دوران کہی گئی، جس کا اہتمام ادارہ برائے تحقیق و تعلیم (Idara-e-Taleem-o-Tehqeeq) اور تھنک ٹینک گلوبل پالیسی اینڈ ریسرچ سینٹر نے مشترکہ طور پر کیا۔
بلوچستان کو نظرانداز کرنا ایک بڑا مسئلہ
ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے گلوبل پالیسی اینڈ ریسرچ سینٹر کے سینئر صحافی محمد حنیف قمر نے کہا کہ قومی میڈیا اکثر بلوچستان جیسے بڑے صوبے کی سماجی حقیقتوں سے بے خبر رہتا ہے۔
انہوں نے کہا:
“بدقسمتی سے ہمارا قومی میڈیا بلوچستان کے سماجی ڈھانچے اور ثقافتی تبدیلیوں کو نظرانداز کرتا ہے، جس کے باعث زمینی حقائق سامنے نہیں آ پاتے۔”
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ صحافیوں کو بلوچستان کے مسئلے کو تاریخی، تہذیبی اور جغرافیائی تناظر میں سمجھ کر رپورٹنگ کرنی چاہیے۔
معاشی ترقی اور شدت پسندی کے خلاف میڈیا کا کردار
کاروباری شخصیت منور ملک نے کہا کہ بلوچستان میں سرمایہ کاری کے لیے مثبت اور متوازن میڈیا بیانیہ ضروری ہے، کیونکہ معاشی ترقی مواصلاتی خلا میں ممکن نہیں۔
پنجاب اسمبلی پریس گیلری کے صدر خواجہ ناصر نے کہا کہ جعلی خبروں اور غلط معلومات کی مہمات علاقائی بے چینی کو بڑھاتی ہیں اور قومی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں۔
تعلیم، صحت اور ریاستی چیلنجز پر گفتگو
ورکشاپ میں مختلف ماہرین نے ریاستی اور سماجی موضوعات پر بھی اظہار خیال کیا۔
- ڈاکٹر عمار خان ناصر نے جدید ریاستی نظام اور مذہبی فکر کے باہمی تعلق پر لیکچر دیا۔
- ماہر تعلیم پروفیسر ڈاکٹر زرکہ بشیر نے میڈیا اور تعلیمی نظام کے اشتراک کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔
- ڈاکٹر غلام رحمانی جاپا نے صحت کے شعبے میں میڈیا کے کردار اور غلط معلومات کے خطرات پر بات کی۔
ماہرین نے اس بات پر زور دیا کہ ذمہ دار صحافت اور متوازن رپورٹنگ قومی یکجہتی اور علاقائی استحکام کے لیے ناگزیر ہیں۔