کوئٹہ — مولانا فضل الرحمان آج تین روزہ سرکاری دورے پر کوئٹہ پہنچ گئے ہیں۔ ان کے دورے کی اہم ترین سرگرمی 4 جون کو پشین میں منعقد ہونے والی "تحفظِ مدارس و حقوقِ بلوچستان کانفرنس" سے خطاب ہوگی۔
جمعیت علمائے اسلام (ف) کے مرکزی ترجمان محمد اسلم غوری کے مطابق یہ کانفرنس مدارس کے تحفظ، مذہبی آزادی اور بلوچستان کے عوام کے آئینی حقوق کے حوالے سے ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوگی۔
کوئٹہ میں اعلیٰ قیادت کی آمد
کانفرنس کے انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں جبکہ صوبے بھر سے کارکنوں کے قافلے پشین پہنچنا شروع ہو گئے ہیں۔ جے یو آئی (ف) کی مرکزی اور صوبائی قیادت بھی کوئٹہ پہنچ چکی ہے، جن میں:
- مولانا عبدالغفور حیدری
- محمد اسلم غوری
- انجینئر ضیاء الرحمان
- علامہ راشد سومرو
- مولانا صلاح الدین
- انجینئر عبدالرزاق عابد لکھو
شامل ہیں۔
دورے کے دوران مولانا فضل الرحمان پارٹی رہنماؤں، قبائلی عمائدین اور مختلف سیاسی شخصیات سے ملاقاتیں بھی کریں گے، جن میں بلوچستان کی سیاسی صورتحال اور امن و امان کے امور زیر بحث آئیں گے۔
مدارس کے حوالے سے حکومتی پالیسیوں پر تنقید
جے یو آئی (ف) کے رہنماؤں نے مدارس کے خلاف مبینہ حکومتی اقدامات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ دینی مدارس نے ہمیشہ پاکستان کی نظریاتی سرحدوں کے تحفظ اور دینی و سماجی خدمات میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
پارٹی کے مطابق مدارس کے ساتھ امتیازی سلوک ناقابلِ قبول ہے اور ان کے تحفظ کے لیے ہر آئینی و جمہوری فورم پر آواز اٹھائی جائے گی۔
مہنگائی، امن و امان اور صوبائی حقوق پر مؤقف
پارٹی قیادت نے بلوچستان کے عوامی مسائل، مہنگائی، امن و امان کی صورتحال اور صوبائی حقوق کے معاملات کو بھی کانفرنس کا اہم حصہ قرار دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق مولانا فضل الرحمان اپنے خطاب میں بلوچستان کے وسائل پر مقامی آبادی کے حق، بڑھتی ہوئی مہنگائی، سیاسی صورتحال اور مستقبل کی حکمتِ عملی کے حوالے سے اہم اعلانات کر سکتے ہیں۔