وسائل سے مالا مال بلوچستان کے عوام محرومی کا شکار ہیں، حافظ نعیم الرحمٰن
لورالائی: امیر Jamaat-e-Islami Pakistan Hafiz Naeemur Rehman نے کہا ہے کہ بے پناہ قدرتی وسائل ہونے کے باوجود بلوچستان کے عوام بنیادی حقوق اور ترقی سے محروم ہیں، جو ملک کی بڑی ناانصافیوں میں سے ایک ہے۔
لورالائی میں Al-Khidmat Foundation کے “بنو قابل” پروگرام کی انٹری ٹیسٹ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ بلوچستان کوئلے، ماربل اور دیگر قیمتی معدنیات سے مالا مال ہے، لیکن مقامی آبادی کو ان وسائل کا کوئی فائدہ نہیں پہنچ رہا۔
انہوں نے کہا، “اتنے بڑے پیمانے پر کوئلہ اور ماربل موجود ہونے کے باوجود مقامی لوگوں کو کچھ نہیں مل رہا۔” ان کا کہنا تھا کہ صوبے کے وسائل کے استحصال نے بلوچستان کے عوام میں بے چینی اور غم و غصہ پیدا کیا ہے۔
امیر جماعت اسلامی نے بلوچستان کے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ آگے بڑھیں اور قومی ترقی میں اپنا کردار ادا کریں۔
انہوں نے کہا، “پورا ملک بلوچستان کے نوجوانوں کا ہے۔ ہمارے ساتھ مل کر اس استحصالی نظام کے خاتمے کے لیے جدوجہد کریں۔”
حافظ نعیم الرحمٰن نے صوبے میں تعلیمی بحران پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صرف لورالائی میں 35 ہزار سے زائد بچے اسکولوں سے باہر ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آئینِ پاکستان ہر بچے کو میٹرک تک مفت اور معیاری تعلیم کی ضمانت دیتا ہے، مگر ملک میں طبقاتی نظامِ تعلیم نافذ کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے ایران کے ساتھ توانائی تعاون کے فقدان پر بھی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ ورچوئل گیس پائپ لائن کے ذریعے بلوچستان کے مختلف علاقوں کو آسانی سے گیس فراہم کی جا سکتی ہے۔
معاشی مسائل پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ غریب موٹر سائیکل سواروں پر بھاری ٹیکس عائد کیے جا رہے ہیں جبکہ بااثر جاگیردار اور وڈیرے ٹیکس دینے سے بچ رہے ہیں۔