جہانگیر خان ترین نے بلوچستان کے ضلع پشین میں ایک ارب روپے کی لاگت سے دو جدید تعلیمی ادارے قائم کرنے کا اعلان کیا ہے، جن میں ایک بوائز اور ایک گرلز اسکول شامل ہوگا۔
انہوں نے یہ اعلان لاہور میں تَرین ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے تعاون سے گورنمنٹ کوئین میری گریجویٹ کالج میں قائم جدید کمپیوٹر لیب کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
نئی کمپیوٹر لیب کا مقصد طالبات کو جدید ڈیجیٹل تعلیم اور ٹیکنالوجی تک رسائی فراہم کرنا ہے تاکہ وہ موجودہ دور کے تقاضوں کے مطابق مہارتیں حاصل کر سکیں۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جہانگیر ترین نے کہا کہ نوجوان نسل کا مستقبل جدید تعلیم اور ٹیکنالوجی سے وابستہ ہے، اور ان کی فاؤنڈیشن پسماندہ طبقات کے لیے تعلیمی مواقع بڑھانے پر کام کر رہی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ تَرین ایجوکیشن فاؤنڈیشن اس وقت ملک بھر میں 225 سے زائد تعلیمی اداروں کی معاونت کر رہی ہے، جہاں تعلیمی معیار، بنیادی سہولیات اور انفراسٹرکچر کی بہتری پر توجہ دی جا رہی ہے۔
بلوچستان سے اپنے خاندانی تعلق کا ذکر کرتے ہوئے جہانگیر ترین نے کہا کہ ان کا قبیلہ اصل میں بلوچستان سے تعلق رکھتا تھا اور بعد میں ملتان منتقل ہوا۔ اسی نسبت کو مدنظر رکھتے ہوئے انہوں نے پشین میں دو معیاری تعلیمی ادارے قائم کرنے کا اعلان کیا۔
کالج کی پرنسپل ڈاکٹر سدرہ امیر نے کہا کہ نئی کمپیوٹر لیب جدید سہولیات سے آراستہ ہے اور اس سے طالبات کی تعلیمی اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں نمایاں اضافہ ہوگا۔