سندھ طاس معاہدہ سبوتاژ کرنے کی قیمت بہت بھاری ہوگی، اسحاق ڈار
پانی روکنے کی کوئی بھی کوشش ’اعلانِ جنگ‘ تصور ہوگی، سول عسکری قیادت کا متفقہ فیصلہ
اسلام آباد — نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار نے واضح کیا ہے کہ سرحد پار بہنے والے دریاؤں سے متعلق کسی بھی بین الاقوامی معاہدے کو کمزور یا سبوتاژ کرنے کی قیمت بہت بھاری ہو سکتی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ بین الاقوامی قوانین اور پابند معاہدوں کی خلاف ورزی کے نتائج صرف دو ممالک تک محدود نہیں رہتے، بلکہ اس سے عالمی امن و سلامتی کا نظام متزلزل ہو جاتا ہے۔
نائب وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان کے لیے یہ کوئی نظریاتی یا محض قانونی بحث نہیں ہے، بلکہ پانی پاکستان کے 25 کروڑ سے زائد شہریوں کی زندگی کی بنیادی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری زراعت، غذائی تحفظ، توانائی کی پیداوار اور معاشی ترقی کا انحصار تین مغربی دریاؤں کے مسلسل اور بلا تعطل بہاؤ پر ہے۔
"میں بھارت کو یہ مشورہ دینا چاہتا ہوں کہ وہ جنگ کے بیج بونے سے گریز کرے اور جنوبی ایشیا کے امن و استحکام کو خطرے میں نہ ڈالے۔ خطے میں پائیدار امن کا راستہ طاقت یا دھمکی نہیں بلکہ مذاکرات اور سفارت کاری ہے۔" - محمد اسحاق ڈار
قومی سلامتی کمیٹی کا تاریخی اور متفقہ فیصلہ
نائب وزیر اعظم نے یاد دلایا کہ مئی 2025 کے بحران اور بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کے اعلان کے بعد پاکستان میں قومی سلامتی کمیٹی کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا تھا۔ اس اجلاس میں سول اور عسکری قیادت نے متفقہ طور پر فیصلہ کیا تھا کہ اگر پاکستان کے حصے کا پانی کا رخ موڑنے یا اس کی فراہمی روکنے کی کوشش کی گئی تو اسے جنگ کے مترادف اقدام تصور کیا جائے گا۔
پاکستانی خارجہ پالیسی کے اہم نکات
قانونی و سفارتی تحفظ: پاکستان اپنے جائز آبی وسائل پر کسی قسم کا غیرقانونی قبضہ یا تجاوز ہرگز قبول نہیں کرے گا اور بین الاقوامی قانون کے تحت تمام سفارتی ذرائع استعمال کرے گا۔
معاہدے کی اہمیت: سندھ طاس معاہدہ کئی برسوں کے طویل مذاکرات کے بعد آبی وسائل کے منصفانہ استعمال کو یقینی بنانے کے لیے طے پایا تھا، جسے یکطرفہ طور پر ختم نہیں کیا جا سکتا۔
امن کے لیے عزم: پاکستان نہ تصادم چاہتا ہے اور نہ ہی جنگ؛ پاکستان کی خارجہ پالیسی کی بنیاد تمام ممالک کے ساتھ باہمی احترام، برابری اور امن پر مبنی تعلقات استوار کرنے پر ہے