اسلام آباد: انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) نے آئندہ مالی سال کے بجٹ کے لیے حکومت سے اسٹیشنری مصنوعات پر دی گئی 10 فیصد سیلز ٹیکس رعایت کو فوری طور پر ختم کرنے کا مطالبہ کر دیا ہے۔ اس اقدام کے بعد حکومت فنانس بل 2026 میں اسٹیشنری پر سیلز ٹیکس بڑھا کر 18 فیصد کرنے پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے۔
اگر یہ تجویز فنانس بل کا حصہ بنتی ہے تو یکم جولائی 2026 سے کاپیاں، رجسٹر، قلم، پینسل، اور دیگر تعلیمی و دفتری سامان کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ متوقع ہے۔
فنانس بل 2026: آئی ایم ایف کی تجویز کی منظوری
ذرائع کے مطابق، آئی ایم ایف نے اسٹیشنری مصنوعات پر 18 فیصد جنرل سیلز ٹیکس (GST) عائد کرنے کی تجویز کی اصولی منظوری دے دی ہے، جس کا نفاذ نئے مالی سال کے آغاز سے ہوگا۔ حکومت بجٹ 27-2026 میں مختلف شعبوں کو دیے گئے ٹیکس استثنیٰ کو ختم یا محدود کرنے کی پالیسی پر کام کر رہی ہے، اور اسٹیشنری پر رعایت کا خاتمہ اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔
صارفین اور تعلیمی شعبے پر اثرات
اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹیکس رعایت کے خاتمے سے اسٹیشنری مصنوعات پر ٹیکس کا بوجھ تقریباً دوگنا ہو جائے گا۔ اس فیصلے کے براہِ راست اثرات درج ذیل شعبوں پر پڑیں گے:
طلبہ اور والدین: کاپیوں، پینسلوں اور کتابوں کی قیمتیں بڑھنے سے عام آدمی کے لیے تعلیمی اخراجات برقرار رکھنا مشکل ہو جائے گا۔
دفتری اخراجات: کارپوریٹ اور سرکاری سیکٹر میں دفتری سامان (Stationery) کے بجٹ میں نمایاں اضافہ ہوگا۔
اسکول اور تعلیمی ادارے: نجی تعلیمی اداروں کے انتظامی اخراجات بڑھنے سے فیسوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔