تازہ ترین
بلوچستان میں ایماندار افسران کب تک انتقام کا نشانہ بنتے رہیں گے؟ کالعدم بی ایل اے کا ’خواتین نیٹ ورک‘: خودکش حملوں اور دہشت گردی کے لیے برین واشنگ کے طریقہ کار کا پردہ چاک فتنہ الہندوستان کے خلاف ایف سی بلوچستان (ساؤتھ)کی تابر توڑ کاروائیاں مشرقِ وسطیٰ میں نیا تنازع شدت اختیار کر گیا، ایران کا اسرائیل پر بڑا میزائل حملہ؛ ٹرمپ کی فوری سفارتی مداخلت کوئٹہ تیزاب حملہ ڈاکٹر ماہ نور کی حالت مستحکم، بینائی محفوظ، اے کے یو ایچ میں علاج جاری رخنی کو جدید ماڈل ڈویژنل سٹی بنانے کا فیصلہ، اہم ترقیاتی منصوبوں کی منظوری ڈاکٹر ماہ نور پر تیزاب حملہ: ماہرہ خان، یاسر حسین سمیت فنکاروں کا شدید ردعمل، انصاف کا مطالبہ آصفہ بھٹو زرداری کی ڈاکٹر ماہ نور نثار پر تیزاب حملے کی شدید مذمت "پاکستان آپ کے ساتھ کھڑا ہے" — وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کی ڈاکٹر ماہ نور نثار سے ملاقات ویمن پارلیمنٹری کاکس بلوچستان کی کوئٹہ میں خاتون ڈاکٹر پر تیزاب حملے کی شدید مذمت تیزاب حملے کے بعد ڈاکٹر ماہ نور نثار کی مدد کرنے والے عبدالرزاق ترکئی کے لیے سول ایوارڈ کا اعلان فلپائن میں شدید زلزلہ: 5 افراد ہلاک، متعدد زخمی، سرکاری میڈیا کی تصدیق پاک افغان تجارت کی معطلی سے افغان کسان شدید مالی بحران کا شکار گلگت بلتستان اسمبلی انتخابات: غیر حتمی نتائج میں پیپلز پارٹی کی واضح برتری، 9 نشستیں اپنے نام کر لیں جرمنی کے الیگزینڈر زیوریو نے فرنچ اوپن 2026ء جیت لیا معاذ صداقت اپینڈکس سرجری کے بعد دو ہفتے کے لیے کرکٹ سے باہر
بلوچستان خبر

آئی ایم ایف کا اسٹیشنری پر ٹیکس رعایت ختم کرنے کا مطالبہ؛ یکم جولائی سے تعلیمی سامان مہنگا ہونے کا امکان

آئی ایم ایف کا اسٹیشنری پر ٹیکس رعایت ختم کرنے کا مطالبہ؛ یکم جولائی سے تعلیمی سامان مہنگا ہونے کا امکان

اسلام آباد: انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) نے آئندہ مالی سال کے بجٹ کے لیے حکومت سے اسٹیشنری مصنوعات پر دی گئی 10 فیصد سیلز ٹیکس رعایت کو فوری طور پر ختم کرنے کا مطالبہ کر دیا ہے۔ اس اقدام کے بعد حکومت فنانس بل 2026 میں اسٹیشنری پر سیلز ٹیکس بڑھا کر 18 فیصد کرنے پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے۔

اگر یہ تجویز فنانس بل کا حصہ بنتی ہے تو یکم جولائی 2026 سے کاپیاں، رجسٹر، قلم، پینسل، اور دیگر تعلیمی و دفتری سامان کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ متوقع ہے۔

فنانس بل 2026: آئی ایم ایف کی تجویز کی منظوری

ذرائع کے مطابق، آئی ایم ایف نے اسٹیشنری مصنوعات پر 18 فیصد جنرل سیلز ٹیکس (GST) عائد کرنے کی تجویز کی اصولی منظوری دے دی ہے، جس کا نفاذ نئے مالی سال کے آغاز سے ہوگا۔ حکومت بجٹ 27-2026 میں مختلف شعبوں کو دیے گئے ٹیکس استثنیٰ کو ختم یا محدود کرنے کی پالیسی پر کام کر رہی ہے، اور اسٹیشنری پر رعایت کا خاتمہ اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔

صارفین اور تعلیمی شعبے پر اثرات

اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹیکس رعایت کے خاتمے سے اسٹیشنری مصنوعات پر ٹیکس کا بوجھ تقریباً دوگنا ہو جائے گا۔ اس فیصلے کے براہِ راست اثرات درج ذیل شعبوں پر پڑیں گے:

طلبہ اور والدین: کاپیوں، پینسلوں اور کتابوں کی قیمتیں بڑھنے سے عام آدمی کے لیے تعلیمی اخراجات برقرار رکھنا مشکل ہو جائے گا۔

دفتری اخراجات: کارپوریٹ اور سرکاری سیکٹر میں دفتری سامان (Stationery) کے بجٹ میں نمایاں اضافہ ہوگا۔

اسکول اور تعلیمی ادارے: نجی تعلیمی اداروں کے انتظامی اخراجات بڑھنے سے فیسوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔