پنجگور:انسپکٹر جنرل فرنٹئیر کانسٹیبلری (آئی جی ایف سی) بلوچستان (ساؤتھ) نے ضلع پنجگور کے دور افتادہ سرحدی علاقے پروم کا اہم دورہ کیا۔ اس موقع پر انہوں نے پرواز فاؤنڈیشن کے زیر انتظام تزئین و آرائش اور تعمیرِ نو کے بعد دوبارہ مکمل طور پر فعال ہونے والے 'جناح ہسپتال پروم' کا باقاعدہ افتتاح کیا۔ اس منصوبے کا مقصد دور دراز علاقوں کے شہریوں کو ان کی دہلیز پر بنیادی صحت کی سہولیات فراہم کرنا ہے۔
جناح ہسپتال پروم کا پس منظر اور بحالی کا سفر
جناح ہسپتال پروم کی ایک طویل تاریخ ہے جو گزشتہ کئی برسوں سے حکومتی عدم توجہی کے باعث معطل تھی۔ ہسپتال کی بحالی کے اہم مراحل درج ذیل ہیں:
1979: اس طبی مرکز کا آغاز ابتدائی طور پر ایک چھوٹی ڈسپنسری کے طور پر ہوا تھا۔
1994: علاقے کی ضرورت کے پیشِ نظر اسے رورل ہیلتھ سینٹر (RHC) کا درجہ دیا گیا۔
2013: عمارت کی شدید خستہ حالی اور وسائل کی کمی کے باعث یہ ہسپتال غیر فعال ہو گیا، جس سے مقامی آبادی طبی سہولیات سے محروم ہو گئی۔
علاقائی عوام کی دیرینہ ضرورت اور مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے ایف سی بلوچستان (ساؤتھ) اور پرواز فاؤنڈیشن نے مشترکہ طور پر ہسپتال کی ازسرنو مرمت اور تزئین و آرائش کا بیڑہ اٹھایا اور اسے ایک جدید ہیلتھ کیئر ہب میں تبدیل کر دیا۔
جدید طبی انفراسٹرکچر اور 20 بستروں کے وارڈز کا قیام
اس وسیع ترمیمی منصوبے کے تحت ہسپتال کی عمارت کو جدید خطوط پر استوار کیا گیا ہے:
"بوسیدگی کے باعث گرنے والی پرانی چھت کی جگہ نئی چھت تعمیر کی گئی ہے اور دیواروں کی مکمل مرمت کی گئی ہے۔ ہسپتال کو اب 20 بستروں کی گنجائش کے ساتھ خواتین، مرد اور بچوں کے الگ الگ میڈیکل وارڈز میں تقسیم کر دیا گیا ہے۔"
انفراسٹرکچر کے ساتھ ساتھ ہسپتال میں چوبیس گھنٹے فعال رہنے والی فارمیسی، اسٹیٹ آف دی آرٹ میڈیکل لیبارٹری، آپریشن تھیٹر (OT) اور ایک ایمرجنسی بلاک بھی قائم کیا گیا ہے۔ مریضوں کے تشخیصی اور علاج کے عمل کو یقینی بنانے کے لیے تمام ضروری اور جدید طبی آلات کی فراہمی بھی مکمل کر لی گئی ہے۔
50 ہزار کی آبادی کا سفری لائف لائن اور دیرینہ مطالبہ پورا
جناح ہسپتال پروم کے دوبارہ فعال ہونے سے پروم اور اس کے گردونواح کی تقریباً 50,000 آبادی کو اب اعلیٰ معیار کا علاج اپنے ہی علاقے میں میسر ہو گا۔ اس سے قبل، معمولی علاج اور ہنگامی صورتحال میں مقامی رہائشیوں کو سینکڑوں کلومیٹر کا کٹھن سفر طے کر کے کوئٹہ یا پنجگور کے مرکزی ہسپتالوں کا رخ کرنا پڑتا تھا، جس سے قیمتی جانوں کا زیاں بھی ہوتا تھا۔ مقامی معززین نے پاک فوج، ایف سی بلوچستان اور پرواز فاؤنڈیشن کے اس فلاحی اقدام کو زبردست الفاظ میں سراہا ہے۔