اسلام آباد: ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC) کے چیئرمین ڈاکٹر نیاز احمد اختر نے اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں جدید اصلاحات اور ڈیجیٹلائزیشن کے جامع منصوبے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کی 282 جامعات کو عالمی معیار کے مطابق ڈیجیٹل نظام پر منتقل کرنا قومی ترجیح ہے۔
ڈگری ویریفکیشن مکمل طور پر آن لائن
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر نیاز احمد اختر نے بتایا کہ ایچ ای سی نے ڈگری تصدیق کا عمل مکمل طور پر آن لائن کر دیا ہے۔ اب طلبہ اور گریجویٹس کو فزیکل وزٹ کی ضرورت نہیں ہوگی اور تمام درخواستیں “ای ٹکٹ” سسٹم کے ذریعے نمٹائی جائیں گی۔
انہوں نے کہا کہ ادارہ جاتی شفافیت کے لیے تمام اہم پالیسی فیصلے منظم انداز میں کمیشن کے ذریعے کیے جا رہے ہیں، جبکہ گزشتہ تین ماہ کے دوران دو مکمل کمیشن اجلاس اور ایکریڈیٹیشن کونسل کے تین اہم اجلاس منعقد کیے جا چکے ہیں۔
مصنوعی ذہانت اور سائبر سیکیورٹی کے مراکز قائم
چیئرمین ایچ ای سی کے مطابق جدید ٹیکنالوجی اور تحقیق کے فروغ کے لیے ملک بھر میں خصوصی سینٹرز آف ایکسی لینس قائم کیے جا رہے ہیں۔
- مصنوعی ذہانت (AI) کے شعبے میں 12 بڑے تعلیمی اداروں کو نیشنل یونیورسٹی آف سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی (NUST) کے ساتھ منسلک کیا گیا ہے۔
- سائبر سیکیورٹی کے لیے 12 تعلیمی مراکز کو ایئر یونیورسٹی کی نگرانی میں مربوط کیا گیا ہے تاکہ ڈیجیٹل سیکیورٹی کے قومی نظام کو مضبوط بنایا جا سکے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ سماجی علوم، لائف سائنسز اور دیگر اہم تعلیمی شعبوں کے لیے 10 سے 12 خصوصی ریگولیٹری اور ریسرچ کونسلز بھی قائم کی گئی ہیں۔
عالمی درجہ بندی میں پاکستانی جامعات کی بہتری
ڈاکٹر نیاز احمد اختر نے کہا کہ عالمی یونیورسٹی رینکنگ میں پاکستانی اداروں کی پوزیشن بہتر بنانے کے لیے تین ماہ قبل خصوصی ٹاسک فورس قائم کی گئی تھی، جس کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ اس وقت پاکستان کے 30 مختلف تعلیمی پروگرام دنیا کی ٹاپ 50 سے 400 جامعات کی درجہ بندی میں شامل ہو چکے ہیں۔
نئی پالیسی سفارشات جلد متوقع
چیئرمین ایچ ای سی نے کہا کہ مختلف شعبوں کے لیے قائم ٹاسک فورسز اپنی سفارشات کو حتمی شکل دے رہی ہیں، جو آئندہ چند ہفتوں میں پیش کی جائیں گی اور انہی کی بنیاد پر اعلیٰ تعلیم سے متعلق نئی پالیسی فیصلے کیے جائیں گے۔