اسلام آباد: پاکستان کی ٹیکنالوجی اور جدید تحقیق کے شعبے میں ایک اہم پیش رفت کے طور پر ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) نے نیشنل یونیورسٹی آف سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی (نسٹ) کو ملک میں مصنوعی ذہانت (AI) اور روبوٹکس پالیسی کی قیادت سونپ دی ہے۔
اس سلسلے میں ریکٹر نسٹ ڈاکٹر محمد زاہد لطیف کو باضابطہ طور پر قومی چیئر برائے مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس مقرر کیا گیا ہے۔
قومی اے آئی حکمتِ عملی کی تشکیل
نسٹ اسلام آباد میں قائم ہونے والا یہ قومی چیئر ماہرین، پالیسی سازوں اور تعلیمی اداروں کے ساتھ مل کر پاکستان کے لیے جامع قومی اے آئی اور روبوٹکس حکمتِ عملی تیار کرے گا۔
ڈاکٹر محمد زاہد لطیف نے اس تقرری کو نسٹ کی علمی، تحقیقی اور ادارہ جاتی صلاحیتوں پر اعتماد کا اظہار قرار دیا۔
پالیسی سازی اور جدید تحقیق پر توجہ
قومی چیئر کا دائرہ کار صرف تحقیق تک محدود نہیں ہوگا بلکہ:
- انتظامی اور پالیسی خامیوں کی نشاندہی
- عالمی معیار کا جائزہ لے کر نئی سفارشات تیار کرنا
- سرکاری و نجی شعبوں میں اے آئی اور آٹومیشن کے استعمال کو فروغ دینا
بھی اس کے اہم اہداف میں شامل ہوگا۔
پاکستان کو ٹیکنالوجی میں علاقائی قیادت دلانے کا وژن
اس اقدام کا مقصد پاکستان میں ڈیجیٹل ترقی کو تیز کرنا، جدید ٹیکنالوجی کے شعبوں کو فروغ دینا اور ملک کو مصنوعی ذہانت، روبوٹکس اور آٹومیشن میں علاقائی سطح پر نمایاں مقام دلانا ہے۔
حکام کے مطابق نسٹ کی قیادت میں قائم یہ مرکزی نظام جدید صنعتی ترقی، محفوظ ڈیجیٹل انفراسٹرکچر اور علم پر مبنی معیشت کے فروغ میں اہم کردار ادا کرے گا۔