گوادر — ضلع گوادر کے علاقے اورماڑہ سے تعلق رکھنے والی عائدہ بلوچ نے چین کی معروف Ocean University of China سے فشریز (ماہی پروری) کے شعبے میں کامیابی کے ساتھ پی ایچ ڈی مکمل کر لی ہے، جس پر بلوچستان بھر میں خوشی اور فخر کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
مقامی سماجی تنظیموں اور سوشل میڈیا صارفین کے مطابق عائدہ بلوچ کی یہ کامیابی مکران ڈویژن میں بھرپور انداز میں سراہا جا رہی ہے اور انہیں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والی نوجوان خواتین کے لیے ایک مثالی شخصیت قرار دیا جا رہا ہے۔
چین کے صوبہ شینڈونگ کے شہر چنگ ڈاؤ میں واقع اوشن یونیورسٹی آف چائنا سمندری علوم، اوشیانوگرافی، آبی زراعت اور ماہی پروری کی تحقیق کے حوالے سے عالمی سطح پر شہرت رکھتی ہے۔
عائدہ بلوچ کی تحقیقی کاوش بلوچستان کے ساحلی علاقوں میں پائی جانے والی مختلف مچھلیوں کی اقسام، ان کے حیاتیاتی نظام، مچھلیوں کے ذخائر کی صورتحال، ضرورت سے زیادہ شکار کے اثرات اور پائیدار ماہی پروری کے طریقہ کار پر مرکوز رہی۔ ماہرین کے مطابق ان کی تحقیق پاکستان کے ماہی گیری کے شعبے کی ترقی اور پائیداری میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
ان کی تعلیمی کامیابی کو نہ صرف گوادر اور مکران بلکہ پورے بلوچستان کے لیے ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے، جو تحقیق، جدت اور قومی ترقی میں نوجوان نسل کے بڑھتے ہوئے کردار کی عکاسی کرتی ہے۔
سماجی حلقوں اور سوشل میڈیا صارفین نے عائدہ بلوچ کی محنت، لگن اور کامیابی کو بلوچستان اور پاکستان کے لیے باعثِ فخر قرار دیتے ہوئے انہیں مبارکباد پیش کی ہے۔