کوئٹہ (ویب ڈیسک): بلوچستان حکومت کے محکمہ داخلہ کے معاون بابر یوسفزئی اور مقامی پولیس حکام نے تصدیق کی ہے کہ یونیورسٹی آف گوادر کے وائس چانسلر، پرو وائس چانسلر سمیت چار مغوی افراد کو بحفاظت بازیاب کرا لیا گیا ہے۔
اغوا کا واقعہ
حکام کے مطابق یہ اعلیٰ تعلیمی شخصیات 14 مئی کو گوادر سے کوئٹہ جاتے ہوئے مستونگ کے علاقے خڈ کوچہ کے قریب نامعلوم مسلح افراد کے ہاتھوں اغوا ہو گئی تھیں۔
بازیاب ہونے والوں میں شامل ہیں:
- پروفیسر ڈاکٹر عبدالرزاق صابر
- ڈاکٹر سید منظور احمد
- ڈاکٹر ارشاد بولیدی (پی ایس او)
- ڈرائیور حاتم بدل
بازیابی اور موجودہ صورتحال
مستونگ پولیس کے مطابق تمام افراد کو مستونگ کی حدود سے بازیاب کیا گیا۔
خاندانی ذرائع نے بتایا کہ تمام افراد جسمانی طور پر محفوظ ہیں، تاہم اغوا کے بعد ذہنی دباؤ کے باعث وہ فی الحال میڈیا سے گفتگو کرنے کی حالت میں نہیں ہیں۔
جامعہ گوادر کا پس منظر
University of Gwadar کو ابتدا میں 2017 میں یونیورسٹی آف تربت کے سب کیمپس کے طور پر قائم کیا گیا تھا، جبکہ 25 اکتوبر 2021 کو اسے مکمل خودمختار یونیورسٹی کا درجہ دیا گیا۔
پروفیسر ڈاکٹر عبدالرزاق صابر کو اسی روز جامعہ کا پہلا وائس چانسلر مقرر کیا گیا تھا اور وہ تقریباً چار سال سے ادارے کی قیادت کر رہے ہیں۔
یونیورسٹی میں اس وقت:
- مینجمنٹ سائنسز
- کامرس و سوشل سائنسز
- سائنس، انجینئرنگ و ٹیکنالوجی
کے شعبہ جات فعال ہیں اور دو ہزار سے زائد طلبہ زیر تعلیم ہیں۔
تعلیمی حلقوں کا ردعمل
بلوچستان کے تعلیمی حلقوں نے وائس چانسلر اور دیگر عملے کی بحفاظت واپسی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے اساتذہ اور تعلیمی اداروں کی سیکیورٹی مزید مضبوط بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔