گوادर (بیورو رپورٹ): گوادر یونیورسٹی میں وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر عبدالرزاق صابر، پرو وائس چانسلر ڈاکٹر سید منظور احمد، لیکچرار ڈاکٹر ارشاد احمد اور ڈرائیور حاتم علی کے اغوا کے خلاف آج جامعہ بھر میں یومِ سیاہ منایا گیا۔
احتجاج کے دوران انتظامی افسران، اساتذہ اور یونیورسٹی اسٹاف نے بازوؤں پر سیاہ پٹیاں باندھ کر شدید تشویش اور غم و غصے کا اظہار کیا۔
یہ احتجاج جامعہ بلوچستان اکیڈمک اسٹاف ایسوسی ایشن اور فیڈریشن آف آل پاکستان یونیورسٹیز اکیڈمک اسٹاف ایسوسی ایشن (فاپواسا) بلوچستان چیپٹر کی مشترکہ ہڑتال کال پر کیا گیا۔
تعلیمی حلقوں میں خوف و ہراس
مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ اعلیٰ تعلیمی شخصیات کو نشانہ بنانا صوبے کے تعلیمی ماحول پر سنگین حملہ ہے۔
انہوں نے کہا:
“معروف تعلیمی رہنماؤں کا اغوا نہ صرف افسوسناک واقعہ ہے بلکہ یہ تعلیمی نظام کو نقصان پہنچانے اور اساتذہ و طلبہ میں خوف و ہراس پھیلانے کی منظم کوشش ہے۔”
حکومت بلوچستان سے فوری مطالبات
گوادर یونیورسٹی کی اکیڈمک برادری نے حکومت بلوچستان اور متعلقہ سکیورٹی اداروں سے فوری مطالبات کرتے ہوئے کہا:
- وائس چانسلر، پرو وائس چانسلر، لیکچرار اور ڈرائیور کی فوری اور محفوظ بازیابی یقینی بنائی جائے۔
- تمام جامعات میں مؤثر سکیورٹی اقدامات نافذ کیے جائیں کیونکہ تعلیمی اداروں کا تحفظ ریاست کی ذمہ داری ہے۔
- واقعے میں ملوث عناصر کو فوری گرفتار کرکے قانون کے مطابق سزا دی جائے۔
مظاہرین نے اعلان کیا کہ بلوچستان بھر کی سرکاری جامعات کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے احتجاجی سلسلہ جاری رکھا جائے گا اور اس وقت تک جاری رہے گا جب تک مغوی اساتذہ کو بحفاظت بازیاب نہیں کرا لیا جاتا اور تعلیمی اداروں کی سکیورٹی کے لیے عملی اقدامات نہیں کیے جاتے۔