اسلام آباد: خطے میں پاکستان کے بڑھتے ہوئے سفارتی اثر و رسوخ اور ایران امریکہ کشیدگی میں مؤثر ثالثی کے کردار نے بھارت اور اسرائیل کے گٹھ جوڑ کو بوکھلاہٹ کا شکار کر دیا ہے۔ عالمی فورمز پر پاکستان کی پذیرائی کو زائل کرنے کے لیے مغربی میڈیا کے ذریعے منظم گمراہ کن مہم کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
اسرائیلی وزیراعظم کے بے بنیاد الزامات
اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے امریکی نشریاتی ادارے 'سی بی ایس' (CBS) پر انٹرویو کے دوران پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ پاکستان "بوٹ فارمز" کے ذریعے اسرائیل مخالف مہم چلا رہا ہے۔ نیتن یاہو نے دعویٰ کیا کہ امریکہ اور اسرائیل کے تعلقات میں حالیہ سرد مہری کا ذمہ دار بھی پاکستان کا پروپیگنڈا ہے۔
سی بی ایس اور بی بی سی کا متعصبانہ کردار
امریکی ادارے سی بی ایس نے من گھڑت دعویٰ کیا ہے کہ پاک ایران سفارتی عمل کے دوران ایرانی طیاروں کو پاکستانی ایئربیسز فراہم کی گئیں۔ تاہم، پاکستانی دفترِ خارجہ نے ان خبروں کو قطعی مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ایرانی طیاروں کی آمد و رفت صرف سفارتی عملے کی حد تک محدود تھی۔ دوسری جانب، برطانوی ادارے بی بی سی اور بھارتی میڈیا نے کابل میں دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کو 'انسانی المیہ' قرار دے کر پاکستان کو بدنام کرنے کی ناکام کوشش کی ہے۔
ماہرین کی آراء: پاکستان کا بڑھتا ہوا عالمی قد
دفاعی اور سفارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان نے اپنی اصولی سفارت کاری سے خلیجی ریاستوں کو ایک بڑی تباہی سے بچا لیا ہے۔
فلسطین پر پاکستان کے غیر متزلزل موقف کی وجہ سے اسرائیل بوکھلاہٹ میں پاکستان کو نشانہ بنا رہا ہے۔
بھارت کو خدشہ ہے کہ پاکستان کی عالمی فعال حیثیت اسے سفارتی تنہائی کی طرف دھکیل دے گی۔