گلگت: گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کے لیے اتوار کو پرامن انداز میں پولنگ مکمل ہونے کے بعد تمام 24 حلقوں میں ووٹوں کی گنتی جاری ہے۔
شدید سرد موسم کے باعث چار ماہ کی تاخیر سے منعقد ہونے والے اس انتخابی عمل میں ووٹرز نے بھرپور حصہ لیا۔ ابتدائی غیر سرکاری اطلاعات کے مطابق مختلف پولنگ اسٹیشنز سے نتائج موصول ہونا شروع ہو گئے ہیں، جس کے بعد بڑی سیاسی جماعتوں کے درمیان سخت مقابلے کی فضا قائم ہو گئی ہے۔
سخت سکیورٹی انتظامات کے درمیان بھرپور ٹرن آؤٹ
الیکشن کمیشن گلگت بلتستان نے شفاف اور منظم ووٹنگ کے لیے جامع سکیورٹی اور انتظامی اقدامات کیے تھے۔ پولنگ صبح 8 بجے سے شام 5 بجے تک بلا تعطل جاری رہی، جبکہ ڈسٹرکٹ ریٹرننگ افسران (DROs) کو ضابطہ اخلاق پر سختی سے عملدرآمد اور امن و امان برقرار رکھنے کے لیے مجسٹریٹ کے اختیارات دیے گئے تھے۔
مجموعی طور پر 958,480 رجسٹرڈ ووٹرز حقِ رائے دہی کے اہل تھے، جن میں 503,772 مرد اور 454,708 خواتین ووٹرز شامل تھیں۔ نگران صوبائی حکام نے عوام کی بھرپور شرکت کو سراہتے ہوئے کہا کہ آزاد، منصفانہ اور شفاف انتخابات علاقائی استحکام اور ترقی کی بنیاد ہیں۔
سخت سیاسی مقابلہ
گلگت بلتستان کے انتخابات 2026 میں 396 امیدوار 24 جنرل نشستوں کے لیے میدان میں ہیں۔ بڑی سیاسی جماعتوں پاکستان پیپلز پارٹی (PPP)، پاکستان مسلم لیگ (ن)، پاکستان تحریک انصاف (PTI) اور استحکام پاکستان پارٹی (IPP) نے اپنے اہم امیدوار میدان میں اتارے ہیں، جبکہ بڑی تعداد میں آزاد امیدوار بھی انتخابی دوڑ میں شامل ہیں۔
اہم نکتہ: اگرچہ تعداد کے لحاظ سے آزاد امیدواروں کی اکثریت ہے، تاہم سیاسی مبصرین کی نظریں خاص طور پر ہنزہ اور اسکردو جیسے اہم حلقوں پر مرکوز ہیں، جہاں کانٹے دار مقابلے متوقع ہیں اور یہی حلقے آئندہ علاقائی حکومت کی تشکیل میں فیصلہ کن کردار ادا کر سکتے ہیں۔