تازہ ترین
بلوچستان میں ایماندار افسران کب تک انتقام کا نشانہ بنتے رہیں گے؟ کالعدم بی ایل اے کا ’خواتین نیٹ ورک‘: خودکش حملوں اور دہشت گردی کے لیے برین واشنگ کے طریقہ کار کا پردہ چاک فتنہ الہندوستان کے خلاف ایف سی بلوچستان (ساؤتھ)کی تابر توڑ کاروائیاں مشرقِ وسطیٰ میں نیا تنازع شدت اختیار کر گیا، ایران کا اسرائیل پر بڑا میزائل حملہ؛ ٹرمپ کی فوری سفارتی مداخلت کوئٹہ تیزاب حملہ ڈاکٹر ماہ نور کی حالت مستحکم، بینائی محفوظ، اے کے یو ایچ میں علاج جاری رخنی کو جدید ماڈل ڈویژنل سٹی بنانے کا فیصلہ، اہم ترقیاتی منصوبوں کی منظوری ڈاکٹر ماہ نور پر تیزاب حملہ: ماہرہ خان، یاسر حسین سمیت فنکاروں کا شدید ردعمل، انصاف کا مطالبہ آصفہ بھٹو زرداری کی ڈاکٹر ماہ نور نثار پر تیزاب حملے کی شدید مذمت "پاکستان آپ کے ساتھ کھڑا ہے" — وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کی ڈاکٹر ماہ نور نثار سے ملاقات ویمن پارلیمنٹری کاکس بلوچستان کی کوئٹہ میں خاتون ڈاکٹر پر تیزاب حملے کی شدید مذمت تیزاب حملے کے بعد ڈاکٹر ماہ نور نثار کی مدد کرنے والے عبدالرزاق ترکئی کے لیے سول ایوارڈ کا اعلان فلپائن میں شدید زلزلہ: 5 افراد ہلاک، متعدد زخمی، سرکاری میڈیا کی تصدیق پاک افغان تجارت کی معطلی سے افغان کسان شدید مالی بحران کا شکار گلگت بلتستان اسمبلی انتخابات: غیر حتمی نتائج میں پیپلز پارٹی کی واضح برتری، 9 نشستیں اپنے نام کر لیں جرمنی کے الیگزینڈر زیوریو نے فرنچ اوپن 2026ء جیت لیا معاذ صداقت اپینڈکس سرجری کے بعد دو ہفتے کے لیے کرکٹ سے باہر
بلوچستان خبر

گلگت بلتستان میں حکومت سازی کا دنگل؛ 24 حلقوں پر پولنگ جاری، اہم سیاسی معرکہ سج گیا

گلگت بلتستان میں حکومت سازی کا دنگل؛ 24 حلقوں پر پولنگ جاری، اہم سیاسی معرکہ سج گیا

گلگت – گلگت بلتستان اسمبلی کے عام انتخابات 2026 کے لیے پولنگ کا عمل ملک گیر توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے، جہاں آج شام یہ فیصلہ ہو جائے گا کہ خطے میں اگلی حکومت کون تشکیل دے گا۔


الیکشن کمیشن آف گلگت بلتستان کے مطابق، انتخابی عمل صبح 8 بجے شروع ہوا جو بغیر کسی وقفے کے شام 5 بجے تک جاری رہے گا۔ اس اہم جمہوری عمل میں نو لاکھ تریسٹھ ہزار چونتیس (963,034) رجسٹرڈ ووٹرز اپنا حقِ رائے دہی استعمال کر رہے ہیں۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے ووٹرز کی سہولت کے لیے پورے خطے میں 1,368 پولنگ اسٹیشنز قائم کیے گئے ہیں۔


رجسٹرڈ ووٹرز اور امیدواروں کے اعداد و شمار

رواں انتخابات میں مرد اور خواتین ووٹرز کا تناسب اور امیدواروں کی بڑی تعداد انتخابی گہما گہمی کو واضح کرتی ہے:


مرد ووٹرز: 506,097


خواتین ووٹرز: 456,937


مجموعی امیدوار: 396 (جس میں 266 آزاد امیدوار شامل ہیں)


پارٹی ٹکٹ ہولڈرز: پاکستان پیپلز پارٹی (PPP) کے 23 اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے 22 امیدوار انتخابی دنگل میں آمنے سامنے ہیں۔


خواتین امیدوار: 8 خواتین امیدوار بھی اس انتخابی معرکے میں اپنی قسمت آزما رہی ہیں۔


حکومت سازی کا فارمولا: گلگت بلتستان اسمبلی میں سادہ اکثریت حاصل کرنے اور حکومت بنانے کے لیے کسی بھی جماعت یا اتحاد کو کم از کم 13 براہ راست نشستوں پر کامیابی درکار ہے۔


گلگت بلتستان کے اہم حلقے اور بڑے انتخابی ٹاکرے

رواں انتخابات میں کئی حلقوں پر انتہائی سخت اور سنسنی خیز مقابلے متوقع ہیں، جن کی تفصیل درج ذیل ہے:


جی بی اے 1 (گلگت 1): اس حلقے میں مجموعی طور پر 23 امیدوار میدان میں ہیں۔ تاہم، اصل مقابلہ پیپلز پارٹی کے امجد حسین ایڈوکیٹ، مسلم لیگ (ن) کے محمد شفیق الدین اور استحکامِ پاکستان پارٹی (IPP) کے سلطان رئیس کے درمیان ہے۔


جی بی اے 2 (گلگت 2): یہ اس الیکشن کا سب سے بڑا انتخابی معرکہ قرار دیا جا رہا ہے۔ یہاں سابق وزیراعلیٰ اور ن لیگ کے رہنما حافظ حفیظ الرحمن اور پیپلز پارٹی کے جمیل احمد کے درمیان کانٹے کا مقابلہ جاری ہے۔


جی بی اے 4 (نگر 1): 30,063 ووٹرز پر مشتمل اس حلقے میں پیپلز پارٹی، آئی پی پی اور آزاد امیدوار ذوالفقار علی کے درمیان تراہا مقابلہ متوقع ہے۔


جی بی اے 6 (ہنزہ): 52 ہزار سے زائد ووٹرز کے اس حلقے میں ہنزہ قومی اتحاد، پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار، پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان کڑا مقابلہ ہے۔


جی بی اے 8 (اسکردو 2): یہاں مجموعی ووٹرز کی تعداد 52,287 ہے۔ اس حلقے میں مجلس وحدتِ مسلمین (MWM) اور تحریک انصاف (PTI) کے مشترکہ امیدوار کاظم میثم اور پیپلز پارٹی کے محمد علی شاہ کے درمیان سخت ٹکراؤ ہے۔


جی بی اے 11 (کھرمنگ) اور جی بی اے 12 (شگر): ان دونوں حلقوں میں روایتی حریف پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے امیدواروں کے درمیان آمنے سامنے کا بڑا جوڑ پڑا ہے۔


جی بی اے 13 (استور 1): تقریباً 44 ہزار ووٹرز کے اس حلقے میں سابق وزیراعلیٰ خالد خورشید کی والدہ اور آزاد امیدوار شاہدہ خورشید کا مقابلہ مسلم لیگ (ن) کے امیدوار سے ہے۔


جی بی اے 18 (دیامر 4، تانگیر): 10 امیدواروں کے درمیان مقابلے میں استحکامِ پاکستان پارٹی کے رہنما اور سابق وزیراعلیٰ حاجی گلبر خان اور ن لیگ کے کفایت الرحمن کے درمیان زبردست مقابلہ ہے۔


جی بی اے 20 (غذر 2): 52,806 ووٹرز کے اس حلقے میں پیپلز پارٹی کے نذیر احمد اور آئی پی پی کے خان اکبر خان مدمقابل ہیں۔


جی بی اے 23 (گھانچھے 2): 10 امیدواروں کی اس دوڑ میں پیپلز پارٹی کے امیدوار کو دو مضبوط آزاد امیدواروں، حاجی انور اور عبدالحمید کی طرف سے سخت چیلنج کا سامنا ہے۔