گلگت – گلگت بلتستان اسمبلی کے عام انتخابات 2026 کے لیے پولنگ کا عمل ملک گیر توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے، جہاں آج شام یہ فیصلہ ہو جائے گا کہ خطے میں اگلی حکومت کون تشکیل دے گا۔
الیکشن کمیشن آف گلگت بلتستان کے مطابق، انتخابی عمل صبح 8 بجے شروع ہوا جو بغیر کسی وقفے کے شام 5 بجے تک جاری رہے گا۔ اس اہم جمہوری عمل میں نو لاکھ تریسٹھ ہزار چونتیس (963,034) رجسٹرڈ ووٹرز اپنا حقِ رائے دہی استعمال کر رہے ہیں۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے ووٹرز کی سہولت کے لیے پورے خطے میں 1,368 پولنگ اسٹیشنز قائم کیے گئے ہیں۔
رجسٹرڈ ووٹرز اور امیدواروں کے اعداد و شمار
رواں انتخابات میں مرد اور خواتین ووٹرز کا تناسب اور امیدواروں کی بڑی تعداد انتخابی گہما گہمی کو واضح کرتی ہے:
مرد ووٹرز: 506,097
خواتین ووٹرز: 456,937
مجموعی امیدوار: 396 (جس میں 266 آزاد امیدوار شامل ہیں)
پارٹی ٹکٹ ہولڈرز: پاکستان پیپلز پارٹی (PPP) کے 23 اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے 22 امیدوار انتخابی دنگل میں آمنے سامنے ہیں۔
خواتین امیدوار: 8 خواتین امیدوار بھی اس انتخابی معرکے میں اپنی قسمت آزما رہی ہیں۔
حکومت سازی کا فارمولا: گلگت بلتستان اسمبلی میں سادہ اکثریت حاصل کرنے اور حکومت بنانے کے لیے کسی بھی جماعت یا اتحاد کو کم از کم 13 براہ راست نشستوں پر کامیابی درکار ہے۔
گلگت بلتستان کے اہم حلقے اور بڑے انتخابی ٹاکرے
رواں انتخابات میں کئی حلقوں پر انتہائی سخت اور سنسنی خیز مقابلے متوقع ہیں، جن کی تفصیل درج ذیل ہے:
جی بی اے 1 (گلگت 1): اس حلقے میں مجموعی طور پر 23 امیدوار میدان میں ہیں۔ تاہم، اصل مقابلہ پیپلز پارٹی کے امجد حسین ایڈوکیٹ، مسلم لیگ (ن) کے محمد شفیق الدین اور استحکامِ پاکستان پارٹی (IPP) کے سلطان رئیس کے درمیان ہے۔
جی بی اے 2 (گلگت 2): یہ اس الیکشن کا سب سے بڑا انتخابی معرکہ قرار دیا جا رہا ہے۔ یہاں سابق وزیراعلیٰ اور ن لیگ کے رہنما حافظ حفیظ الرحمن اور پیپلز پارٹی کے جمیل احمد کے درمیان کانٹے کا مقابلہ جاری ہے۔
جی بی اے 4 (نگر 1): 30,063 ووٹرز پر مشتمل اس حلقے میں پیپلز پارٹی، آئی پی پی اور آزاد امیدوار ذوالفقار علی کے درمیان تراہا مقابلہ متوقع ہے۔
جی بی اے 6 (ہنزہ): 52 ہزار سے زائد ووٹرز کے اس حلقے میں ہنزہ قومی اتحاد، پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار، پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان کڑا مقابلہ ہے۔
جی بی اے 8 (اسکردو 2): یہاں مجموعی ووٹرز کی تعداد 52,287 ہے۔ اس حلقے میں مجلس وحدتِ مسلمین (MWM) اور تحریک انصاف (PTI) کے مشترکہ امیدوار کاظم میثم اور پیپلز پارٹی کے محمد علی شاہ کے درمیان سخت ٹکراؤ ہے۔
جی بی اے 11 (کھرمنگ) اور جی بی اے 12 (شگر): ان دونوں حلقوں میں روایتی حریف پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے امیدواروں کے درمیان آمنے سامنے کا بڑا جوڑ پڑا ہے۔
جی بی اے 13 (استور 1): تقریباً 44 ہزار ووٹرز کے اس حلقے میں سابق وزیراعلیٰ خالد خورشید کی والدہ اور آزاد امیدوار شاہدہ خورشید کا مقابلہ مسلم لیگ (ن) کے امیدوار سے ہے۔
جی بی اے 18 (دیامر 4، تانگیر): 10 امیدواروں کے درمیان مقابلے میں استحکامِ پاکستان پارٹی کے رہنما اور سابق وزیراعلیٰ حاجی گلبر خان اور ن لیگ کے کفایت الرحمن کے درمیان زبردست مقابلہ ہے۔
جی بی اے 20 (غذر 2): 52,806 ووٹرز کے اس حلقے میں پیپلز پارٹی کے نذیر احمد اور آئی پی پی کے خان اکبر خان مدمقابل ہیں۔
جی بی اے 23 (گھانچھے 2): 10 امیدواروں کی اس دوڑ میں پیپلز پارٹی کے امیدوار کو دو مضبوط آزاد امیدواروں، حاجی انور اور عبدالحمید کی طرف سے سخت چیلنج کا سامنا ہے۔