تازہ ترین
بلوچستان میں ایماندار افسران کب تک انتقام کا نشانہ بنتے رہیں گے؟ کالعدم بی ایل اے کا ’خواتین نیٹ ورک‘: خودکش حملوں اور دہشت گردی کے لیے برین واشنگ کے طریقہ کار کا پردہ چاک فتنہ الہندوستان کے خلاف ایف سی بلوچستان (ساؤتھ)کی تابر توڑ کاروائیاں مشرقِ وسطیٰ میں نیا تنازع شدت اختیار کر گیا، ایران کا اسرائیل پر بڑا میزائل حملہ؛ ٹرمپ کی فوری سفارتی مداخلت کوئٹہ تیزاب حملہ ڈاکٹر ماہ نور کی حالت مستحکم، بینائی محفوظ، اے کے یو ایچ میں علاج جاری رخنی کو جدید ماڈل ڈویژنل سٹی بنانے کا فیصلہ، اہم ترقیاتی منصوبوں کی منظوری ڈاکٹر ماہ نور پر تیزاب حملہ: ماہرہ خان، یاسر حسین سمیت فنکاروں کا شدید ردعمل، انصاف کا مطالبہ آصفہ بھٹو زرداری کی ڈاکٹر ماہ نور نثار پر تیزاب حملے کی شدید مذمت "پاکستان آپ کے ساتھ کھڑا ہے" — وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کی ڈاکٹر ماہ نور نثار سے ملاقات ویمن پارلیمنٹری کاکس بلوچستان کی کوئٹہ میں خاتون ڈاکٹر پر تیزاب حملے کی شدید مذمت تیزاب حملے کے بعد ڈاکٹر ماہ نور نثار کی مدد کرنے والے عبدالرزاق ترکئی کے لیے سول ایوارڈ کا اعلان فلپائن میں شدید زلزلہ: 5 افراد ہلاک، متعدد زخمی، سرکاری میڈیا کی تصدیق پاک افغان تجارت کی معطلی سے افغان کسان شدید مالی بحران کا شکار گلگت بلتستان اسمبلی انتخابات: غیر حتمی نتائج میں پیپلز پارٹی کی واضح برتری، 9 نشستیں اپنے نام کر لیں جرمنی کے الیگزینڈر زیوریو نے فرنچ اوپن 2026ء جیت لیا معاذ صداقت اپینڈکس سرجری کے بعد دو ہفتے کے لیے کرکٹ سے باہر
بلوچستان خبر

دشت بلوچستان: چار دہائیوں سے نظرانداز، بنیادی سہولیات کا شدید بحران

دشت بلوچستان: چار دہائیوں سے نظرانداز، بنیادی سہولیات کا شدید بحران

کوئٹہ: دشت، جو بلوچستان کا ایک اسٹریٹجک لحاظ سے اہم مگر شدید طور پر نظرانداز کیا گیا خطہ ہے، گزشتہ چار دہائیوں سے مسلسل پسماندگی، محرومی اور انتظامی غفلت کا شکار ہے۔ حکومتوں کی مسلسل تبدیلیوں کے باوجود اس علاقے کو بنیادی شہری سہولیات سے محروم رکھا گیا ہے، جس کے باعث یہاں کے عوام ایک طویل انسانی اور معاشی بحران کا سامنا کر رہے ہیں۔

ترقی کے پائیدار منصوبوں کی عدم موجودگی نے دشت میں زندگی کو مفلوج کر دیا ہے، جہاں بنیادی ضروریاتِ زندگی بھی روزمرہ جدوجہد بن چکی ہیں۔

دشت کا بحران مکمل طور پر بنیادی ڈھانچے کے انہدام پر مشتمل ہے، جس میں درج ذیل سنگین مسائل شامل ہیں: پانی کی شدید قلت: صاف پینے کے پانی تک رسائی تقریباً نہ ہونے کے برابر ہے، جس کے باعث لوگ دور دراز اور غیر محفوظ ذرائع پر انحصار کرنے پر مجبور ہیں۔

تباہ حال انفراسٹرکچر: کچی اور خستہ حال سڑکوں کے باعث علاقہ مکمل طور پر منقطع ہو چکا ہے، سفر خطرناک اور تجارت متاثر ہے۔

صحت اور تعلیم کی ناقص صورتحال: مقامی طبی مراکز میں بنیادی سہولیات اور عملے کی شدید کمی ہے، جبکہ تعلیمی ادارے وسائل کی کمی کا شکار ہیں، جس سے نوجوانوں کا تعلیمی حق متاثر ہو رہا ہے۔

صنعتی اور تجارتی منصوبوں کی عدم موجودگی نے نوجوانوں میں بے روزگاری کو شدید کر دیا ہے۔ روزگار کے مواقع نہ ہونے کے باعث نوجوان نسل مایوسی کا شکار ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ خواتین، بچے اور بزرگ اس انتظامی خلا کا سب سے زیادہ شکار ہیں اور بنیادی سماجی تحفظ سے محروم ہیں۔

ادارتی نوٹ: صاف پانی، معیاری تعلیم، جدید صحت کی سہولیات اور محفوظ سڑکوں تک رسائی کوئی سہولت نہیں بلکہ دشت کے عوام کا بنیادی آئینی حق ہے۔

دشت کے دیرینہ مسائل کو مزید نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ مزید محرومی اور معاشی زوال سے بچنے کے لیے صوبائی اور وفاقی حکومتوں کو فوری طور پر ایک جامع ترقیاتی پیکیج نافذ کرنا چاہیے۔

حقیقی ترقی بلوچستان میں اسی وقت ممکن ہے جب دشت جیسے علاقے بھی ترقی کے قومی دھارے میں شامل ہوں۔