کوئٹہ: دشت، جو بلوچستان کا ایک اسٹریٹجک لحاظ سے اہم مگر شدید طور پر نظرانداز کیا گیا خطہ ہے، گزشتہ چار دہائیوں سے مسلسل پسماندگی، محرومی اور انتظامی غفلت کا شکار ہے۔ حکومتوں کی مسلسل تبدیلیوں کے باوجود اس علاقے کو بنیادی شہری سہولیات سے محروم رکھا گیا ہے، جس کے باعث یہاں کے عوام ایک طویل انسانی اور معاشی بحران کا سامنا کر رہے ہیں۔
ترقی کے پائیدار منصوبوں کی عدم موجودگی نے دشت میں زندگی کو مفلوج کر دیا ہے، جہاں بنیادی ضروریاتِ زندگی بھی روزمرہ جدوجہد بن چکی ہیں۔
دشت کا بحران مکمل طور پر بنیادی ڈھانچے کے انہدام پر مشتمل ہے، جس میں درج ذیل سنگین مسائل شامل ہیں: پانی کی شدید قلت: صاف پینے کے پانی تک رسائی تقریباً نہ ہونے کے برابر ہے، جس کے باعث لوگ دور دراز اور غیر محفوظ ذرائع پر انحصار کرنے پر مجبور ہیں۔
تباہ حال انفراسٹرکچر: کچی اور خستہ حال سڑکوں کے باعث علاقہ مکمل طور پر منقطع ہو چکا ہے، سفر خطرناک اور تجارت متاثر ہے۔
صحت اور تعلیم کی ناقص صورتحال: مقامی طبی مراکز میں بنیادی سہولیات اور عملے کی شدید کمی ہے، جبکہ تعلیمی ادارے وسائل کی کمی کا شکار ہیں، جس سے نوجوانوں کا تعلیمی حق متاثر ہو رہا ہے۔
صنعتی اور تجارتی منصوبوں کی عدم موجودگی نے نوجوانوں میں بے روزگاری کو شدید کر دیا ہے۔ روزگار کے مواقع نہ ہونے کے باعث نوجوان نسل مایوسی کا شکار ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ خواتین، بچے اور بزرگ اس انتظامی خلا کا سب سے زیادہ شکار ہیں اور بنیادی سماجی تحفظ سے محروم ہیں۔
ادارتی نوٹ: صاف پانی، معیاری تعلیم، جدید صحت کی سہولیات اور محفوظ سڑکوں تک رسائی کوئی سہولت نہیں بلکہ دشت کے عوام کا بنیادی آئینی حق ہے۔
دشت کے دیرینہ مسائل کو مزید نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ مزید محرومی اور معاشی زوال سے بچنے کے لیے صوبائی اور وفاقی حکومتوں کو فوری طور پر ایک جامع ترقیاتی پیکیج نافذ کرنا چاہیے۔
حقیقی ترقی بلوچستان میں اسی وقت ممکن ہے جب دشت جیسے علاقے بھی ترقی کے قومی دھارے میں شامل ہوں۔