اسلام آباد: مالی سال 2025-26 کے پہلے دس ماہ (جولائی تا اپریل) کے دوران وفاقی پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (PSDP) کے تحت ترقیاتی اخراجات 469.84 ارب روپے سے تجاوز کر گئے ہیں۔ سینئر صحافی سجاد کاظمی کی مرتب کردہ رپورٹ کے مطابق وفاقی حکومت نے رواں مالی سال قومی ترقیاتی منصوبوں کے لیے مجموعی طور پر 837.16 ارب روپے مختص کیے تھے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق وفاقی وزارتوں، صوبائی منصوبوں اور خصوصی علاقوں کے لیے ترقیاتی فنڈز کی تقسیم منظم انداز میں کی گئی۔
وفاقی وزارتوں کے لیے 577.14 ارب روپے مختص کیے گئے، جن میں سے 573.33 ارب روپے کی مالی منظوری جاری کی گئی، جبکہ ان وزارتوں کے حقیقی ترقیاتی اخراجات 332.67 ارب روپے رہے۔
اسی طرح صوبوں اور خصوصی علاقوں کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے مختص 201.28 ارب روپے میں سے جولائی تا اپریل کے دوران 117.59 ارب روپے خرچ کیے گئے۔
رپورٹ کے مطابق انفراسٹرکچر، توانائی اور آبی وسائل کے شعبوں میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی گئی، جبکہ نیشنل ہائی وے اتھارٹی (NHA) اور آبی وسائل ڈویژن ترقیاتی فنڈز حاصل کرنے والے بڑے اداروں میں شامل رہے۔
سماجی شعبے میں بھی وفاقی حکومت نے نمایاں فنڈز جاری کیے۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC) کے لیے 34.90 ارب روپے مختص کیے گئے تاکہ جامعات کے انفراسٹرکچر اور تحقیقی منصوبوں کو فروغ دیا جا سکے۔
وفاقی وزارت تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت کے لیے 26.60 ارب روپے مختص کیے گئے تاکہ پرائمری اور سیکنڈری تعلیم کے نظام کو مضبوط بنایا جا سکے۔
اسی طرح وزارت آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن کو 18.40 ارب روپے فراہم کیے گئے تاکہ ڈیجیٹل انفراسٹرکچر اور ٹیکنالوجی کے شعبے کی ترقی کو تیز کیا جا سکے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق پاکستان ریلوے، وزارت داخلہ، قومی صحت خدمات اور ریونیو ڈویژن سمیت دیگر اہم شعبوں کے لیے بھی ترقیاتی فنڈز جاری کیے گئے تاکہ مختلف منصوبوں کی بروقت تکمیل یقینی بنائی جا سکے۔