کابل میں دہشت گردوں کی وی آئی پی میزبانی کے ثبوت سامنے آگئے
فائیو اسٹار ہوٹل میں حافظ گل بہادر گروپ کی عیش وعشرت پر پاکستان کا موقف سچ ثابت
اسلام آباد — افغان طالبان کا دہشت گرد گروہوں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم نہ کرنے کا دعویٰ ایک بار پھر جھوٹا ثابت ہو گیا ہے، جس سے پاکستان کے اصولی مؤقف کی توثیق ہوتی ہے۔ کابل کے معروف فائیو اسٹار انٹرکانٹینینٹل ہوٹل سے فتنہ الخوارج (حافظ گل بہادر گروپ) کے اہم کمانڈروں کی عیش و عشرت اور شاہانہ میزبانی کی تصاویر سوشل میڈیا پر منظرِ عام پر آئی ہیں۔
افغان میڈیا رپورٹس کے مطابق، ہائی سیکیورٹی زون میں واقع اس پرتعیش ہوٹل میں کالعدم تنظیم کے دہشت گردوں کو تمام تر شاہانہ سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں، جس نے خطے کی سیکیورٹی صورتحال پر نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
وائرل تصاویر اور افغان میڈیا کے سنسنی خیز انکشافات
ذرائع ابلاغ کے مطابق، انٹرکانٹینینٹل ہوٹل میں جاری ان سرگرمیوں سے متعلق درج ذیل اہم حقائق سامنے آئے ہیں:
اہم کمانڈروں کی موجودگی: تصاویر میں فتنہ الخوارج کے مرکزی رہنما صدر حیات عرف ابو سفیان، کمانڈر جلالی، رہبر وزیرستانی اور کمانڈر غازی کو واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔
شاہانہ طرزِ زندگی: رپورٹس کے مطابق ان خوارج کمانڈروں کے لیے ہوٹل میں سوئمنگ پول، پرتعیش ضیافتوں، ناچ گانے اور منشیات کا خصوصی اہتمام کیا گیا ہے۔
سرکاری پشت پناہی: دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ انٹرکانٹینینٹل جیسے انتہائی حساس اور محفوظ ہوٹل میں دہشت گردوں کی رہائش افغان رجیم کی مکمل سرپرستی کا ثبوت ہے۔
عالمی قوانین اور پاکستان کا یکطرفہ دفاع کا حق
دفاعی اور بین الاقوامی امور کے ماہرین نے اس پیش رفت کو علاقائی امن کے لیے انتہائی خطرناک قرار دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق کابل میں دہشت گردوں کو ملنے والی یہ کھلی چھوٹ ثابت کرتی ہے کہ موجودہ افغان انتظامیہ کے زیرِ اثر افغانستان اب علاقائی اور عالمی دہشت گردی کا گڑھ بن چکا ہے۔
بین الاقوامی قوانین کے ماہرین کا موقف ہے کہ اگر افغان رجیم اپنی سرزمین کو پڑوسی ممالک کے خلاف استعمال ہونے سے روکنے میں مسلسل ناکام رہتی ہے، تو عالمی قوانین پاکستان کو اپنی بقا اور سلامتی کے لیے یکطرفہ دفاع کا مکمل قانونی اور آئینی حق دیتے ہیں۔