تازہ ترین
بلوچستان میں ایماندار افسران کب تک انتقام کا نشانہ بنتے رہیں گے؟ کالعدم بی ایل اے کا ’خواتین نیٹ ورک‘: خودکش حملوں اور دہشت گردی کے لیے برین واشنگ کے طریقہ کار کا پردہ چاک فتنہ الہندوستان کے خلاف ایف سی بلوچستان (ساؤتھ)کی تابر توڑ کاروائیاں مشرقِ وسطیٰ میں نیا تنازع شدت اختیار کر گیا، ایران کا اسرائیل پر بڑا میزائل حملہ؛ ٹرمپ کی فوری سفارتی مداخلت کوئٹہ تیزاب حملہ ڈاکٹر ماہ نور کی حالت مستحکم، بینائی محفوظ، اے کے یو ایچ میں علاج جاری رخنی کو جدید ماڈل ڈویژنل سٹی بنانے کا فیصلہ، اہم ترقیاتی منصوبوں کی منظوری ڈاکٹر ماہ نور پر تیزاب حملہ: ماہرہ خان، یاسر حسین سمیت فنکاروں کا شدید ردعمل، انصاف کا مطالبہ آصفہ بھٹو زرداری کی ڈاکٹر ماہ نور نثار پر تیزاب حملے کی شدید مذمت "پاکستان آپ کے ساتھ کھڑا ہے" — وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کی ڈاکٹر ماہ نور نثار سے ملاقات ویمن پارلیمنٹری کاکس بلوچستان کی کوئٹہ میں خاتون ڈاکٹر پر تیزاب حملے کی شدید مذمت تیزاب حملے کے بعد ڈاکٹر ماہ نور نثار کی مدد کرنے والے عبدالرزاق ترکئی کے لیے سول ایوارڈ کا اعلان فلپائن میں شدید زلزلہ: 5 افراد ہلاک، متعدد زخمی، سرکاری میڈیا کی تصدیق پاک افغان تجارت کی معطلی سے افغان کسان شدید مالی بحران کا شکار گلگت بلتستان اسمبلی انتخابات: غیر حتمی نتائج میں پیپلز پارٹی کی واضح برتری، 9 نشستیں اپنے نام کر لیں جرمنی کے الیگزینڈر زیوریو نے فرنچ اوپن 2026ء جیت لیا معاذ صداقت اپینڈکس سرجری کے بعد دو ہفتے کے لیے کرکٹ سے باہر
بلوچستان خبر

الیکٹرک بائیکس اسکیم میں پیش رفت سست، حکومت نے پالیسی میں بڑی تبدیلیوں کی منظوری دے دی

الیکٹرک بائیکس اسکیم میں پیش رفت سست، حکومت نے پالیسی میں بڑی تبدیلیوں کی منظوری دے دی

 اسلام آباد( کامرس ڈیسک) وزیراعظم کی سبسڈی والی الیکٹرک بائیکس اسکیم پر عملدرآمد میں مشکلات سامنے آنے کے بعد حکومت نے پالیسی میں اہم ترامیم کی منظوری دے دی ہے۔تفصیلات کے مطابق کمرشل بینکوں کی جانب سے اسکیم میں مطلوبہ تعاون نہ ملنے کے باعث اہداف متاثر ہوئے ہیں۔ بینکوں کو موصول ہونے والی درخواستوں میں سے صرف 4,075 یعنی تقریباً 9 فیصد منظور کی جا سکیں، جس کے باعث رواں مالی سال میں 116,000 الیکٹرک بائیکس کی تقسیم کا ہدف حاصل کرنا مشکل نظر آ رہا ہے۔اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے پاکستان ایکسلریٹڈ وہیکل الیکٹریفکیشن پروگرام میں تبدیلیوں کی منظوری دیتے ہوئے کہا ہے کہ پروگرام کا مقصد الیکٹرک بائیکس، رکشوں اور لوڈرز کے استعمال کو فروغ دینا اور اس شعبے میں سبسڈی فراہم کرنا ہے۔اعداد و شمار کے مطابق اب تک صرف 5,409 الیکٹرک بائیکس اور رکشے تقسیم کیے جا سکے ہیں، جو سالانہ ہدف کا محض 4.5 فیصد بنتا ہے۔ بینکوں کو بھیجی گئی 44,689 درخواستوں میں سے صرف 22 فیصد پر کارروائی ہوئی، جبکہ منظوری کی شرح بھی انتہائی کم رہی۔اس کے برعکس خود مالی معاونت (سیلف فنانس) ماڈل کے تحت بہتر نتائج سامنے آئے ہیں، جہاں تقریباً تمام درخواست گزاروں کو بائیکس فراہم کر دی گئیں اور اکثریت کو حکومتی سبسڈی بھی مل گئی۔