اسلام آباد: عیدالاضحیٰ کے موقع پر قربانی کے جانوروں کی کھالوں کی تجارت سے پاکستان میں اربوں روپے کی معاشی سرگرمی پیدا ہونے کی توقع ہے، جس سے لاکھوں افراد کے روزگار کے مواقع وابستہ ہیں اور ملک کی چمڑے کی صنعت کو بھی نمایاں تقویت ملے گی۔
عرب نیوز رپورٹ: قربانیوں میں 17 فیصد اضافہ
عرب نیوز کی ایک رپورٹ کے مطابق رواں سال پاکستان میں تقریباً 75 لاکھ جانوروں کی قربانی متوقع ہے، جبکہ ان جانوروں کی کھالوں کی تجارت سے 8.7 ارب روپے (تقریباً 3 کروڑ 10 لاکھ ڈالر) کی براہِ راست معاشی سرگرمی پیدا ہوگی۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ دس برسوں کے دوران پاکستان میں قربانی کے جانوروں کی تعداد میں 17 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ معاشی ماہرین کے مطابق یہ اضافہ عوام کی بہتر قوتِ خرید اور ملکی معیشت پر اعتماد کا مظہر ہے۔
متوقع کھالوں کی تعداد
رواں سیزن کے دوران مارکیٹ میں آنے والی کھالوں کی متوقع تعداد درج ذیل ہے:
- گائے اور بیل: 28 لاکھ
- بکریاں: 43 لاکھ
- بھیڑیں: 5 لاکھ
- اونٹ: 30 ہزار
چمڑے کی صنعت میں اہم تبدیلی
رپورٹ کے مطابق گزشتہ نو برسوں میں پاکستان کی چمڑے کی صنعت نے خام کھالوں کی برآمدات پر انحصار کم کرتے ہوئے ویلیو ایڈڈ مصنوعات کی تیاری پر توجہ مرکوز کی ہے۔
اس وقت پاکستان سے برآمد ہونے والی تیار شدہ چمڑے کی مصنوعات اور جوتوں کی مجموعی مالیت 694.20 ملین ڈالر تک پہنچ چکی ہے، جو صنعت کی بڑھتی ہوئی استعداد کا ثبوت ہے۔
حکومتی اقدامات اور ماہرین کی رائے
معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت مقامی سطح پر چمڑے کی ویلیو ایڈڈ مصنوعات کی تیاری کو فروغ دینے کے لیے مختلف پالیسی اقدامات کر رہی ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر خام کھالوں کو ملک کے اندر ہی پراسیس کرکے اعلیٰ معیار کی چمڑے کی مصنوعات تیار کی جائیں تو پاکستان عالمی منڈی میں اپنا حصہ مزید بڑھا سکتا ہے، جس سے برآمدات اور قومی آمدنی میں نمایاں اضافہ ہوگا۔
عیدالاضحیٰ کے بعد کھالوں کی تجارت اور چمڑے کی صنعت پاکستان کی معیشت کے لیے ایک اہم موسمی اقتصادی سرگرمی کے طور پر سامنے آتی ہے، جو روزگار، صنعت اور برآمدات تینوں شعبوں کو فائدہ پہنچاتی ہے۔