اسلام آباد — وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں قومی ٹیرف پالیسی (NTP) 2025-30 کی منظوری دے دی گئی، جس کا مقصد پیداواری لاگت میں کمی، صنعتوں کا فروغ اور برآمدات میں اضافہ ہے۔
ٹیرف نظام میں مصنوعی ذہانت کے استعمال کی ہدایت
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کو برآمدات پر مبنی معیشت میں تبدیل کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ National Tariff Commission کو جدید خطوط پر استوار کیا جائے اور اس کے نظام میں انفارمیشن ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت (AI) کو شامل کیا جائے۔
وزیراعظم نے کہا کہ سرمایہ کار دوست ماحول پیدا کرنے اور صنعتکاروں کو درپیش غیر ضروری رکاوٹوں کے خاتمے کے لیے جدید اور شفاف ٹیرف نظام ناگزیر ہے۔
کینسر ادویات کے خام مال پر ڈیوٹی ختم
قومی ٹیرف پالیسی کے تحت حکومت نے کئی اہم شعبوں میں فوری ریلیف دینے کا فیصلہ کیا ہے:
- کینسر سمیت جان بچانے والی ادویات کی تیاری میں استعمال ہونے والے خام مال اور ایکٹو فارماسیوٹیکل اجزاء (APIs) پر کسٹم ڈیوٹی مکمل طور پر ختم کر دی گئی۔
- اس اقدام سے مقامی سطح پر ادویات کی تیاری کو فروغ ملے گا اور علاج کے اخراجات میں کمی متوقع ہے۔
لاجسٹکس اور ٹرانسپورٹ سیکٹر کو ریلیف
تجارتی سرگرمیوں اور سپلائی چین کو مؤثر بنانے کے لیے:
- ریفر کنٹینرز (Reefer Containers) پر عائد تمام ڈیوٹیز ختم کر دی گئی ہیں۔
- سیمی ٹریلرز اور دیگر لاجسٹک آلات پر موجود ٹیرف بھی ختم کر دیے گئے ہیں۔
تعمیراتی شعبے کے لیے مراعات
حکومت نے تعمیراتی اور انفراسٹرکچر سیکٹر کو فروغ دینے کے لیے خصوصی مشینری اور ہیوی انجینئرنگ گاڑیوں پر ریگولیٹری کسٹم ڈیوٹیز میں بھی کمی کی منظوری دی ہے۔
معیشت پر متوقع اثرات
ماہرین کے مطابق قومی ٹیرف پالیسی 2025-30 پاکستان کی معاشی حکمت عملی میں ایک اہم تبدیلی کی عکاسی کرتی ہے، جس کے تحت صنعتی خام مال پر بوجھ کم کر کے پیداوار اور برآمدات میں اضافہ کیا جائے گا۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس پالیسی سے:
- صنعتی لاگت میں کمی آئے گی،
- ادویات کی قیمتوں پر دباؤ کم ہوگا،
- سپلائی چین مزید مؤثر بنے گی،
- اور پاکستانی مصنوعات کی عالمی منڈی میں مسابقت بڑھانے میں مدد ملے گی۔