کوئٹہ: وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے سول ہسپتال کوئٹہ کے ملازم عبدالرزاق ترکئی کے لیے سول ایوارڈ کا اعلان کر دیا ہے، جنہوں نے تیزاب حملے کا شکار ہونے والی خاتون ڈاکٹر ڈاکٹر ماہ نور نثار کی جان بچانے کے لیے غیر معمولی جرات اور انسان دوستی کا مظاہرہ کیا۔
وزیراعلیٰ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے پیغام میں کہا کہ عبدالرزاق ترکئی نے مشکل ترین صورتحال میں ڈاکٹر ماہ نور کی مدد کرکے بہادری، انسانیت اور فرض شناسی کی اعلیٰ مثال قائم کی، جس کے اعتراف میں انہیں سول اعزاز سے نوازا جائے گا۔
واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ تیزاب حملے کے بعد ڈاکٹر ماہ نور نثار شدید زخمی حالت میں کمرے سے باہر نکلیں تو عبدالرزاق ترکئی فوری طور پر ان کی مدد کے لیے پہنچے اور اپنی جیکٹ سے انہیں ڈھانپنے کی کوشش کی۔
وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی نے کہا کہ ایسے بہادر اور انسان دوست افراد معاشرے کا قیمتی سرمایہ ہیں جو مشکل حالات میں انسانیت کی خدمت کی روشن مثال قائم کرتے ہیں۔
واضح رہے کہ ہفتے کے روز سول ہسپتال کوئٹہ میں ایک ملازم نے مبینہ طور پر ڈاکٹر ماہ نور نثار پر تیزاب پھینک دیا تھا، جس کے نتیجے میں ان کے چہرے، سینے، ٹانگوں اور جسم کے دیگر حصے متاثر ہوئے۔
پولیس کے مطابق ملزم بعد ازاں فرار ہونے کی کوشش کے دوران قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مقابلے میں مارا گیا۔
دوسری جانب رکن قومی اسمبلی آصفہ بھٹو زرداری نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے صدر آصف علی زرداری سے عبدالرزاق ترکئی کو ان کی بے لوث بہادری کے اعتراف میں اعلیٰ ترین سول اعزاز دینے کی سفارش کی ہے۔
ڈاکٹر ماہ نور نثار کو ابتدائی طبی امداد کے بعد کراچی منتقل کر دیا گیا، جہاں وہ آغا خان یونیورسٹی اسپتال میں زیر علاج ہیں۔ اسپتال ذرائع کے مطابق ان کی حالت اب خطرے سے باہر اور مستحکم ہے۔