اسلام آباد (ویب ڈیسک): وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال نے سی پیک 2.0 کے تحت “پانچ سیاسی راہداریوں” کے قیام کی تجویز پیش کر دی، جس کا مقصد پاکستان اور چین کے درمیان پالیسی تسلسل اور سیاسی ہم آہنگی کو مزید مضبوط بنانا ہے۔
سی پیک 2.0 کے چار اہم اقتصادی شعبے
احسن اقبال کے مطابق سی پیک 2.0 کے تحت تعاون پہلے ہی چار نئی راہداریوں میں جاری ہے:
گروتھ کوریڈور
- صنعتی ترقی
- معاشی استحکام
انوویشن کوریڈور
- ٹیکنالوجی
- ڈیجیٹلائزیشن
گرین کوریڈور
- ماحول دوست معیشت
- قابلِ تجدید توانائی
ریجنل ڈیولپمنٹ کوریڈور
- علاقائی رابطہ کاری
- تجارتی جدیدیت
انہوں نے کہا کہ مجوزہ “پولیٹیکل کوریڈورز” ان معاشی منصوبوں کو سیاسی تبدیلیوں سے محفوظ رکھنے میں مدد دیں گے۔
پاک چین تعلقات پر قومی اتفاقِ رائے
وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان اور چین کی دوستی ملک کا مضبوط ترین قومی اتفاقِ رائے ہے اور تمام سیاسی جماعتیں بیجنگ کے ساتھ تعلقات پر مکمل یکجہتی رکھتی ہیں۔
انہوں نے کہا:
“سی پیک نے پاکستان کی معیشت اور انفراسٹرکچر میں انقلابی تبدیلی پیدا کی ہے۔”
احسن اقبال نے چین کی ترقی کو وژنری قیادت، میرٹ اور پالیسی تسلسل کا نتیجہ قرار دیا۔
سی پیک 2.0 کی نئی ترجیحات
انہوں نے بتایا کہ سی پیک کے دوسرے مرحلے میں توجہ دی جائے گی:
- صنعتی ترقی
- جدید ٹیکنالوجی
- زرعی جدت
- گرین اکانومی
- مصنوعی ذہانت (AI)
- نوجوانوں کی تربیت
- تعلیمی تبادلوں
چینی شہریوں کی سیکیورٹی کی یقین دہانی
احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان چینی شہریوں، ماہرین اور کمپنیوں کو مکمل اور فول پروف سیکیورٹی فراہم کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ پاک چین تعلقات باہمی اعتماد، اسٹریٹجک شراکت داری اور مشترکہ خوشحالی کے وژن پر قائم ہیں۔