پاکستان کے چیف آف آرمی اسٹاف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل Syed Asim Munir نے اسلامی جمہوریہ ایران کا مختصر مگر اہم سرکاری دورہ مکمل کر لیا ہے۔ یہ اعلیٰ سطحی دورہ 8 اپریل 2026 کے جنگ بندی معاہدے کے بعد خطے میں کشیدگی کم کرنے اور سفارتی روابط کو مضبوط بنانے کی پاکستانی کوششوں کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔
ایرانی قیادت سے اہم ملاقاتیں
تہران میں قیام کے دوران فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے ایرانی قیادت کے اعلیٰ حکام سے تفصیلی ملاقاتیں کیں، جن میں شامل تھے:
- ایرانی صدر Masoud Pezeshkian
- ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر Mohammad Bagher Ghalibaf
- ایرانی وزیر خارجہ Abbas Araghchi
- ایرانی وزیر داخلہ Eskandar Momeni
ملاقاتوں میں علاقائی امن، سیکیورٹی صورتحال اور جاری سفارتی مشاورت کو مزید مؤثر بنانے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
خطے میں پائیدار امن پر زور
دونوں ممالک نے اس بات پر زور دیا کہ خطے میں دیرپا امن اور استحکام کے لیے ایک جامع اور قابلِ عمل معاہدہ ناگزیر ہے۔
سفارتی ذرائع کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ہونے والے مذاکرات انتہائی مثبت اور تعمیری ماحول میں جاری رہے، جن میں اہم پیش رفت سامنے آئی۔
“مذاکرات میں حوصلہ افزا پیش رفت ہوئی ہے، جس سے خطے کی سیکیورٹی صورتحال کو مستحکم بنانے کے لیے ایک جامع سمجھوتے کی راہ ہموار ہو رہی ہے۔”
پاکستان کے کردار کو سراہا گیا
ایرانی قیادت نے خطے میں امن کے فروغ اور مذاکراتی عمل میں پاکستان کے متوازن اور مخلصانہ کردار کو سراہتے ہوئے اسلام آباد کی سفارتی کوششوں کی تعریف کی۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر کی تہران آمد پر ایرانی وزیر داخلہ اسکندر مومنی اور اعلیٰ سول و عسکری حکام نے ان کا استقبال کیا، جسے اس دورے کی اسٹریٹجک اہمیت کا مظہر قرار دیا جا رہا ہے۔