بلوچستان کے وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (BLA) اور بلوچ یکجہتی کمیٹی (BYC) کے درمیان موجود روابط کو کھل کر بے نقاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبے کے خلاف چلائی جانے والی شدت پسند سرگرمیوں کے پیچھے بھارتی اور افغان انٹیلی جنس نیٹ ورکس کی حمایت شامل ہے۔
کوئٹہ میں یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز، رجسٹرارز، ڈینز اور سینئر پروفیسرز کے ساتھ ایک اہم تعلیمی نشست سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ سوشل میڈیا پر بلوچستان کے حوالے سے چلائی جانے والی ریاست مخالف مہم اور زمینی حقائق میں بہت بڑا فرق موجود ہے۔
انہوں نے کہا کہ “محرومی” کے بیانیے کو مخصوص شدت پسند عناصر دانستہ طور پر استعمال کر رہے ہیں تاکہ نوجوانوں کو گمراہ کرکے پاکستان مخالف ایجنڈے کو فروغ دیا جا سکے۔
سرحد پار انٹیلی جنس نیٹ ورکس کی پشت پناہی
وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچستان میں ہائبرڈ وار فیئر کے تحت ایک منظم مہم جاری ہے جس میں دہشتگردی، مسلح حملوں اور سوشل میڈیا پروپیگنڈے کو بیک وقت استعمال کیا جا رہا ہے تاکہ پاکستان کو کمزور کیا جا سکے۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ کالعدم تنظیمیں بی ایل اے اور تحریک طالبان پاکستان (TTP) کو سرحد پار محفوظ پناہ گاہوں سے مالی، لاجسٹک اور آپریشنل معاونت فراہم کی جا رہی ہے۔
وزیراعلیٰ نے کہا:
“ان شدت پسند تنظیموں کی سہولت کاری دشمن انٹیلی جنس نیٹ ورکس کے ذریعے کی جا رہی ہے جنہیں افغانستان اور بھارت کی ریاستی سرپرستی حاصل ہے۔”
انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ بلوچستان اور پاکستان ایک دوسرے کے لیے ناگزیر ہیں اور ملک کی سالمیت کے خلاف کسی بھی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔
سرفراز بگٹی نے تعلیمی اداروں اور اساتذہ پر زور دیا کہ وہ نوجوانوں کو شدت پسند بیانیوں سے محفوظ رکھنے اور قومی یکجہتی کو فروغ دینے میں اپنا کردار ادا کریں۔