بیجنگ: شمالی چین میں کوئلے کی کان میں ہونے والے ہولناک گیس دھماکے میں ہلاک افراد کی تعداد بڑھ کر 90 ہو گئی ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق حادثہ گزشتہ رات پیش آیا، جس کے باعث متعدد مزدور کان کے اندر پھنس گئے۔
دھماکے کے وقت 247 کان کن زیرِ زمین موجود تھے
سرکاری رپورٹس کے مطابق دھماکے کے وقت مجموعی طور پر 247 کان کن کان کے اندر کام کر رہے تھے۔ اچانک گیس بھرنے کے باعث زور دار دھماکہ ہوا جس سے کان کے کئی حصے منہدم ہو گئے۔
ریسکیو ٹیمیں اور ہنگامی امدادی اہلکار مسلسل کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ مزید زندہ افراد کو نکالا جا سکے۔
صدر شی جن پنگ کی فوری کارروائی کی ہدایت
چینی صدر Xi Jinping نے حادثے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ حکام کو فوری طور پر ریسکیو آپریشن تیز کرنے کی ہدایت دی ہے۔
صدر شی جن پنگ نے کہا:
“تمام وسائل بروئے کار لا کر ریسکیو آپریشن کو تیز کیا جائے۔ ساتھ ہی اس واقعے کی مکمل تحقیقات کی جائیں اور غفلت کے ذمہ دار عناصر کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔”
تحقیقات کا آغاز
حکام کے مطابق حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں، جبکہ کان کنی کے حفاظتی انتظامات کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔