اسلام آباد: آئندہ مالی سال 2026-27 کے بجٹ کے لیے وفاقی حکومت نے 400 سے 500 ارب روپے مالیت کے نئے ٹیکس اقدامات کی منظوری دے دی ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ مالیاتی اقدامات یکم جولائی 2026 سے نافذ ہوں گے، جن کا مقصد معیشت کو دستاویزی بنانا اور ٹیکس چوری کے خاتمے کے ذریعے ریونیو میں اضافہ کرنا ہے۔
وزیراعظم نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) کو ٹیکس چوروں اور غیر دستاویزی دولت کے خلاف سخت کریک ڈاؤن کی ہدایت جاری کی ہے۔
ذرائع کے مطابق ٹیکس نظام کو مؤثر بنانے کے لیے بینکاری شعبے میں بھی بڑی تبدیلیاں کی جا رہی ہیں۔ ایف بی آر کو کمرشل بینکوں کے مرکزی ڈیٹا بیس تک براہِ راست آن لائن رسائی دی جائے گی، جبکہ فائلرز اور نان فائلرز کے لیے جدید ڈیجیٹل بینکنگ مانیٹرنگ سسٹم متعارف کرایا جائے گا، جس سے اضافی 100 ارب روپے آمدن متوقع ہے۔
آئندہ بجٹ میں سپر ٹیکس اور بین الکمپنی منافع پر عائد ٹیکس برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، تاہم سپر ٹیکس کے مرحلہ وار خاتمے کی تجویز زیر غور ہے۔ دوسری جانب غیر ملکی اثاثوں پر عائد کیپیٹل ویلیو ٹیکس (CVT) ختم کرنے پر اتفاق ہو چکا ہے۔
حکومت یکم جولائی 2026 سے ملک بھر میں دستی سیلز ٹیکس انوائسنگ کو مکمل طور پر ختم کر کے صرف ڈیجیٹل انوائسز کو قانونی حیثیت دے گی۔ اس ڈیجیٹل نظام سے بھی تقریباً 100 ارب روپے اضافی آمدن حاصل ہونے کی توقع ہے۔
مزید برآں، سیلز ٹیکس ایکٹ کے تھرڈ شیڈول میں 20 سے 25 نئی اشیاء شامل کی جا رہی ہیں، جن میں دودھ، ڈیری مصنوعات، کیچپ اور کوکنگ آئل جیسے روزمرہ استعمال کے سامان شامل ہوں گے۔ ان پر پرنٹ شدہ ریٹیل قیمت کے مطابق ٹیکس لاگو ہوگا، جس سے مزید 100 ارب روپے آمدن متوقع ہے۔
چھوٹے اور درمیانے تاجروں کے لیے ایک نیا سادہ ٹیکس نظام بھی متعارف کرایا جا رہا ہے، جس کے تحت 25 کروڑ روپے تک سالانہ کاروبار کرنے والے ریٹیلرز سے ٹیکس ان کے ماہانہ بجلی کے بلوں کے ذریعے وصول کیا جائے گا، جبکہ بڑے (ٹئیر-ون) ریٹیلرز اس نظام سے مستثنیٰ ہوں گے۔