غیر جراحی “مائیکرو ببل تھراپی” سے بریسٹ کینسر کے خلیات ختم کرنے میں بڑی پیش رفت
ویب ڈیسک: کینسر کی تحقیق میں ایک بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں سائنسدانوں نے ایک نئی الٹراساؤنڈ مائیکرو ببل تھراپی تیار کی ہے جو روایتی سرجری کے بغیر بریسٹ کینسر کے خلیات کو ختم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ دنیا بھر کے ماہرینِ صحت اسے آنکولوجی کے شعبے میں ایک انقلابی پیش رفت قرار دے رہے ہیں۔
مائیکرو ببل ٹیکنالوجی کیسے کام کرتی ہے؟
یہ جدید علاج فوکسڈ الٹراساؤنڈ ویوز اور نہایت باریک گیس سے بھرے ہوئے ببلز کے امتزاج پر مبنی ہے۔
- طریقہ کار: یہ مائیکرو ببلز خون کے ذریعے متاثرہ حصے تک پہنچتے ہیں۔ جب ان پر مخصوص فریکوئنسی کی الٹراساؤنڈ لہریں ڈالی جاتی ہیں تو یہ تیزی سے پھیل کر پھٹ جاتے ہیں۔
- کینسر خلیات کی تباہی: اس عمل سے پیدا ہونے والے باریک جھٹکے کینسر کے خلیات کو پھاڑ دیتے ہیں اور ان خون کی نالیوں کو بھی نقصان پہنچاتے ہیں جو ٹیومر کو آکسیجن اور غذائیت فراہم کرتی ہیں، جس سے ٹیومر “بھوک” کا شکار ہو جاتا ہے۔
کم سائیڈ ایفیکٹس کے ساتھ ٹارگٹڈ علاج
امریکن کیمیکل سوسائٹی (ACS) میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق یہ طریقہ روایتی علاج کے مقابلے میں بڑا فائدہ فراہم کرتا ہے۔
- یہ صرف کینسر زدہ خلیات کو نشانہ بناتا ہے جبکہ صحت مند ٹشوز کو زیادہ نقصان نہیں پہنچاتا۔
- یہ کینسر کی ادویات کو براہِ راست ٹیومر کے اندر پہنچانے میں مدد دیتا ہے، جس سے علاج زیادہ مؤثر ہو جاتا ہے۔
- نتیجتاً مریضوں میں سائیڈ ایفیکٹس کم اور صحت یابی کا عمل تیز ہو سکتا ہے۔
کلینیکل ٹرائلز ابھی ضروری ہیں
ماہرین کے مطابق یہ ٹیکنالوجی ابھی ابتدائی تجرباتی مرحلے میں ہے۔ اس کے وسیع استعمال سے پہلے انسانی کلینیکل ٹرائلز لازمی ہیں تاکہ اس کی طویل مدتی حفاظت اور مؤثریت کو مکمل طور پر جانچا جا سکے۔
بریسٹ کینسر کا عالمی مسئلہ
یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب دنیا بھر میں ہر سال تقریباً 2.3 ملین خواتین بریسٹ کینسر کا شکار ہوتی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بڑھتے ہوئے کیسز کے باعث تحقیق اب کم تکلیف دہ اور جدید ٹارگٹڈ علاج کی طرف بڑھ رہی ہے۔