اورماڑہ: بلوچستان کی ساحلی بستی اورماڑہ سے تعلق رکھنے والی ڈاکٹر عائدہ بلوچ نے فشریز کے شعبے میں پی ایچ ڈی مکمل کرکے تاریخ رقم کر دی ہے۔ وہ فشریز کے میدان میں پی ایچ ڈی حاصل کرنے والی بلوچستان کی پہلی خاتون بن گئی ہیں۔
ڈاکٹر عائدہ بلوچ کی یہ کامیابی نہ صرف خواتین کی تعلیم کے لیے ایک اہم سنگِ میل ہے بلکہ بلوچستان کے سمندری وسائل اور بلیو اکانومی سے وابستہ شعبوں میں خواتین کی نمائندگی کے لیے بھی ایک بڑی پیش رفت قرار دی جا رہی ہے۔
اورماڑہ سے اعلیٰ تعلیم تک کا سفر
ڈاکٹر عائدہ بلوچ نے اپنی ابتدائی تعلیم اورماڑہ میں حاصل کی اور بعد ازاں اعلیٰ تعلیم کے میدان میں مسلسل محنت، عزم اور لگن کے ذریعے نمایاں کامیابیاں حاصل کیں۔ ان کا یہ سفر بلوچستان کے دور دراز علاقوں سے تعلق رکھنے والی طالبات کے لیے ایک روشن مثال بن گیا ہے۔
بلوچستان کی بیٹیوں کے لیے نئی راہیں
ماہرین تعلیم اور سماجی حلقوں کے مطابق ڈاکٹر عائدہ بلوچ کی کامیابی بلوچستان کی نوجوان طالبات کے لیے ایک مضبوط پیغام ہے کہ محنت اور عزم کے ذریعے کسی بھی شعبے میں نمایاں مقام حاصل کیا جا سکتا ہے۔
فشریز کا شعبہ بلوچستان کی معیشت میں اہم کردار ادا کرتا ہے اور صوبے کے طویل ساحلی علاقے سے ہزاروں افراد کا روزگار وابستہ ہے۔ ڈاکٹر عائدہ بلوچ کی کامیابی مستقبل میں میرین بائیولوجی، آبی زراعت (Aquaculture) اور ساحلی وسائل کے انتظام کے شعبوں میں مزید خواتین کو آگے آنے کی ترغیب دے گی۔
ان کی یہ کامیابی بلوچستان اور پاکستان بھر کے لیے باعثِ فخر قرار دی جا رہی ہے۔