کوئٹہ: بلوچستان اسمبلی کے حالیہ اجلاس میں صوبے کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔ سابق وزیراعلیٰ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ، رحمت صالح بلوچ اور شاہدہ رؤف نے امن و امان اور تاجروں کے معاشی نقصان پر حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا۔
گوادر یونیورسٹی کے وی سی کا اغوا: 'یہ محض دہشت گردی نہیں'
ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے ایوان میں خطاب کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ گوادر یونیورسٹی کے وائس چانسلر اور پرو وائس چانسلر کو اغوا کر لیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ "یہ صرف دہشت گردی نہیں بلکہ اس کے پیچھے بہت سے عوامل کارفرما ہیں۔ صورتحال یہ ہے کہ یہاں بیٹھے سردار اپنے گھروں کو نہیں جا سکتے۔"
ایوان کی رکن شاہدہ رؤف اور رحمت صالح بلوچ نے بھی اس واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وائس چانسلر کو فوری بازیاب کرایا جائے۔
کسٹم ویئر ہاؤس آتشزدگی: 15 ارب روپے کا نقصان
رحمت صالح بلوچ نے کسٹم ویئر ہاؤس میں لگنے والی آگ کو دانستہ کارروائی قرار دیتے ہوئے کہا کہ "آگ لگی نہیں بلکہ لگائی گئی تھی۔" انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس واقعے میں کاروباری حضرات کا 15 ارب روپے کا سامان جل کر راکھ ہو چکا ہے، جو کہ بربریت کی انتہا ہے۔
اسپیکر کی رولنگ: کسٹم حکام طلب
ارکان کے شدید احتجاج اور مطالبے پر اسپیکر بلوچستان اسمبلی نے سینئر کلکٹر کسٹم کو طلب کر لیا ہے تاکہ وہ تمام اراکین اسمبلی کو اس واقعے اور نقصانات پر تفصیلی بریفنگ دیں۔