پانی روکنا وجودی حملہ ہے، بھارت کسی غلط فہمی میں نہ رہے، بلاول بھٹو زرداری
سندھ طاس معاہدے پر بین الاقوامی سیمینار سے چیئرمین پیپلز پارٹی کا اہم ترین خطاب
اسلام آباد — پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے خبردار کیا ہے کہ اکیسویں صدی پانی کی بندش اور آبی وسائل کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کے سنگین خطرے سے دوچار ہے، اور عالمی برادری کو مشترکہ آبی گزرگاہوں کے تحفظ کے لیے فوری طور پر نئے بین الاقوامی قوانین وضع کرنے ہوں گے۔ سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے منعقدہ ایک بین الاقوامی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ کسی بھی ملک کی پانی کی فراہمی کو جان بوجھ کر روکنا ایک وجودی حملہ ہے جس کا ہر فورم پر جواب دیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ دریائے سندھ محض ایک دریا نہیں بلکہ ایک عظیم تہذیب، کروڑوں انسانوں کی زندگی اور پاکستان کی معیشت کی بنیاد ہے۔ اگر اس پر کوئی آنچ آئی تو پاکستان خاموش نہیں بیٹھے گا۔
مؤثر دفاع اور ملکی سرخ لکیریں
چیئرمین پیپلز پارٹی نے دوٹوک انداز میں کہا کہ پاکستان اپنے آبی حقوق اور دریائے سندھ پر کسی صورت کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ مؤثر دفاع اسی وقت ممکن ہوتا ہے جب مخالف فریق کو یہ اچھی طرح معلوم ہو کہ سرخ لکیر (Red Line) عبور کرنے کی اسے کیا بھاری قیمت ادا کرنا پڑے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کی دفاعی صلاحیتوں کا بنیادی مقصد ہی ایسے تمام وجودی خطرات کا راستہ روکنا ہے۔
بلاول بھٹو زرداری کے خطاب کے اہم ترین نکات
عالمی قوانین کی ضرورت: ایسا نہ ہو کہ مستقبل میں دنیا کا ہر زیریں بہاؤ والا ملک بالادست ریاستوں کے دباؤ کا شکار بن جائے، لہٰذا عالمی برادری بھارت کے اس رویے کا نوٹس لے۔
ہمہ جہت حکمتِ عملی: دریائے سندھ کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی بھارتی کوششوں کا جواب سیاسی، سفارتی، اور قانونی سمیت ہر عالمی فورم پر پوری طاقت سے دیا جائے گا۔
سنجیدہ عزم: یہ مؤقف کسی گھبراہٹ یا مہم جوئی کا نتیجہ نہیں، بلکہ بین الاقوامی قانون کے مطابق واضح حکمتِ عملی کے تحت اپنے بنیادی مفادات کا دفاع ہے