کوئٹہ: بلوچستان عوامی پارٹی (بی اے پی) کے صدر نوابزادہ خالد حسین مگسی نے پارٹی کے پاکستان مسلم لیگ (ن) میں انضمام سے متعلق خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ بی اے پی ایک آزاد سیاسی قوت کے طور پر اپنی سرگرمیاں جاری رکھے گی۔
گورنر ہاؤس میں شہری اعزازات کی تقسیم کی تقریب میں شرکت کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ “بی اے پی کسی دوسری جماعت میں ضم نہیں ہوگی بلکہ دیگر جماعتیں بی اے پی میں شامل ہوں گی۔”
انہوں نے کہا کہ پارٹی مشکل سیاسی حالات اور بعض ارکان کی علیحدگی کے باوجود مستحکم ہے اور مستقبل میں بھی بلوچستان کی سیاست میں اہم کردار ادا کرتی رہے گی۔
نوابزادہ خالد مگسی، جو وفاقی وزیر برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی بھی ہیں، نے کہا کہ سیاسی کارکنوں کا جماعتیں تبدیل کرنا معمول کی بات ہے، تاہم پارٹی بطور ادارہ مضبوط اور فعال ہے۔
انہوں نے بلوچستان میں پاور شیئرنگ سے متعلق خبروں پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے بھی ایسی باتیں سنی ہیں، لیکن اس کی تصدیق صرف متعلقہ سیاسی قیادت ہی کر سکتی ہے۔
انہوں نے سیاسی حلقوں اور میڈیا پر زور دیا کہ وہ افواہیں اور غیر مصدقہ اطلاعات پھیلانے سے گریز کریں کیونکہ اس سے صوبے کے اہم عوامی مسائل سے توجہ ہٹتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ سیاسی غیر یقینی صورتحال سے نہ صرف الجھن پیدا ہوتی ہے بلکہ مستقبل کی سیاسی صف بندیوں پر بھی غلط تاثر جاتا ہے۔
سیکیورٹی صورتحال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں سیکیورٹی چیلنجز کے باعث مختلف علاقوں میں سفر پہلے کے مقابلے میں مشکل ہو گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ وہ اپنی سیکیورٹی انتظامات سے متعلق صوبائی وزیر میر اسلم کرد گیلوسے مشاورت کریں گے۔
خالد مگسی نے ایک بار پھر واضح کیا کہ بی اے پی متحد ہے اور اسے کسی دوسری جماعت میں ضم کرنے کی تمام قیاس آرائیاں بے بنیاد ہیں۔