بلوچستان کا وفاقی حکومت سے سینیٹری مصنوعات سستی کرنے کا مطالبہ
بلوچستان اسمبلی نے پیر کے روز خواتین کی حفظانِ صحت سے متعلق مصنوعات پر ٹیکس میں کمی اور صوبائی و بلدیاتی سطح پر اقلیتی نمائندگی کو مضبوط بنانے کے لیے دو قراردادیں منظور کرلیں۔
خواتین کی حفظانِ صحت کی مصنوعات سے متعلق قرارداد جے یو آئی-ف کی خواتین اراکین، شاہدہ رؤف، اُمِ کلثوم، رحمان بلوچ اور خیر بلوچ نے مشترکہ طور پر پیش کی۔
قرارداد میں وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ سینیٹری اور ماہواری سے متعلق حفظانِ صحت کی مصنوعات پر عائد ٹیکس کم کیے جائیں، کیونکہ یہ مصنوعات صوبے کی بڑی تعداد میں خواتین کے لیے اب بھی ناقابلِ خرید ہیں۔
یونیسف کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ بلوچستان میں تقریباً 89 فیصد خواتین اور لڑکیاں محفوظ اور سستی ماہواری حفظانِ صحت کی مصنوعات تک رسائی نہیں رکھتیں، جبکہ صرف 11 فیصد کو مناسب سہولیات میسر ہیں۔
مزید کہا گیا کہ جی ایس ٹی، کسٹمز ڈیوٹی اور دیگر اضافی ٹیکسوں کے باعث ماہواری حفظانِ صحت کی مصنوعات پر مجموعی ٹیکس بوجھ تقریباً 40 فیصد تک پہنچ چکا ہے، جس کے نتیجے میں ضروری طبی اور صحت سے متعلق اشیا کو لگژری مصنوعات کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔