کوئٹہ: بلوچستان کی تاجر برادری نے وفاقی حکومت سے فوری مداخلت کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبے میں بڑھتے ہوئے سیکیورٹی خطرات، کارگو گاڑیوں پر حملوں اور قانونی تجارتی سرگرمیوں میں رکاوٹوں کے باعث معیشت شدید دباؤ کا شکار ہے۔
یہ مطالبہ کوئٹہ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر حاجی محمد ایوب مرانی کی زیر صدارت ایک مشاورتی اجلاس میں کیا گیا جس میں ٹرانسپورٹرز، امپورٹرز، ایکسپورٹرز، کان مالکان، تاجروں، کسانوں اور مختلف تجارتی تنظیموں کے نمائندوں نے شرکت کی۔
تفصیلی مشاورت کے بعد شرکاء نے فیصلہ کیا کہ آئندہ اقدامات کو مربوط بنانے اور حکومتی اداروں سے رابطے کے لیے ایک مشترکہ اسٹیک ہولڈرز کمیٹی قائم کی جائے گی۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے حاجی محمد ایوب مرانی نے کہا کہ بلوچستان کا کاروباری شعبہ غیر معمولی چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے اور اس کے لیے مشترکہ اور منظم حکمت عملی کی ضرورت ہے۔ انہوں نے بتایا کہ شاہراہوں کی بندش اور کارگو گاڑیوں پر حملوں کے حوالے سے وزیراعظم کو پہلے ہی آگاہ کیا جا چکا ہے، جنہوں نے ایک بااختیار کمیٹی بھیجنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں امید ہے کہ جلد شاہراہیں کھل جائیں گی اور کاروباری سرگرمیاں معمول پر آ جائیں گی، تاہم اگر صورتحال بہتر نہ ہوئی تو اسٹیک ہولڈرز آئندہ کے لائحہ عمل کا فیصلہ کریں گے۔
بلوچستان گڈز ٹرک اونرز ایسوسی ایشن کے صدر حاجی نور محمد شاہوانی نے بتایا کہ گزشتہ دو ہفتوں کے دوران کم از کم 28 کارگو ٹرکوں کو آگ لگا دی گئی، جس سے ٹرانسپورٹرز کو بھاری مالی نقصان پہنچا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکام کی جانب سے مناسب مدد نہ ملنے پر ٹرانسپورٹ آپریشنز معطل رہیں گے جب تک متاثرہ مالکان کو معاوضہ فراہم نہیں کیا جاتا۔
ایل پی جی ایسوسی ایشن کے رہنما سید عطاء اللہ آغا نے تاجروں کو درپیش مزید مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ تافتان سے مِرجاوہ تک ایل پی جی لوڈنگ آپریشنز کی منتقلی نے کاروباری سرگرمیوں کو متاثر کیا ہے۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ چھ ٹینکر ڈرائیورز کو اغوا کر کے تاوان کے لیے رکھا گیا ہے اور کسٹمز ہاؤس میں حالیہ آتشزدگی کے واقعے کی تحقیقات کے لیے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دینے کا مطالبہ کیا۔
پاکستان مائنز اونرز ایسوسی ایشن کے سیکرٹری جنرل سید فتح شاہ عارف نے کہا کہ 1995 سے اب تک کارگو ٹرکوں پر حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
انہوں نے بتایا کہ کان مالکان اب تک ٹرانسپورٹرز کو تقریباً 25 کروڑ روپے بطور معاوضہ ادا کر چکے ہیں، تاہم اب یہ ذمہ داری حکومت پر عائد ہوتی ہے۔
مختلف تجارتی تنظیموں، سبزی و فروٹ منڈیوں، ٹرانسپورٹ یونینز اور کان کنی کمپنیوں کے نمائندوں نے صوبے بھر میں تجارتی سرگرمیوں کی مسلسل بندش پر تشویش کا اظہار کیا۔
شرکاء نے شاہراہوں پر مؤثر سیکیورٹی، کارگو ٹرانسپورٹ کے تحفظ اور متاثرہ کاروباری افراد کے لیے حکومتی معاوضہ فنڈ کے قیام کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر فوری اور عملی اقدامات نہ کیے گئے تو تاجر برادری صوبہ گیر احتجاج پر مجبور ہو جائے گی۔
اجلاس کے اختتام پر اسٹیک ہولڈرز کمیٹی تشکیل دی گئی جو اپنی پہلی نشست میں سفارشات تیار کرے گی اور وفاقی و صوبائی حکام سے رابطے کے لیے حکمت عملی مرتب کرے گی۔