کوئٹہ: پاکستان نے ایران سے مزید 100 میگاواٹ بجلی کی درآمد کی منظوری دے دی ہے، جس کے بعد بلوچستان کے ساحلی علاقوں کے لیے مجموعی بجلی فراہمی 204 میگاواٹ تک پہنچ جائے گی۔
حکام کے مطابق اس فیصلے کا مقصد گوادر اور قریبی اضلاع میں بجلی کی صورتحال بہتر بنانا ہے، جہاں اس وقت نیشنل گرڈ سے صرف 40 سے 45 میگاواٹ بلا تعطل بجلی فراہم کی جا رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق نیپرا (NEPRA) نے 13 مئی کو سنٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (CPPA-G) اور ایران کی سرکاری بجلی کمپنی TAVANIR کے درمیان نظرثانی شدہ ٹیرف اور ٹرانسمیشن معاہدوں کی منظوری دی۔
نیپرا نے دو طرفہ بجلی درآمدی معاہدے میں ترامیم 7، 8 اور 9 کی منظوری دی، جس کی پہلے اقتصادی رابطہ کمیٹی (ECC) نے اگست 2023 میں اجازت دی تھی۔
نئے معاہدے کے تحت پاکستان پہلے سے 104 میگاواٹ بجلی ایران سے حاصل کر رہا ہے جبکہ مزید 100 میگاواٹ پولان–گبد ٹرانسمیشن کوریڈور کے ذریعے فراہم کی جائے گی۔
یہ اضافی بجلی گوادر، جیوانی اور مکران ڈویژن کے دیگر علاقوں میں بجلی کی فراہمی کو بہتر بنانے میں مدد دے گی۔
حکام کے مطابق ایران سے آنے والی بجلی کو قومی گرڈ سے منسلک کرنے کے لیے 28 کلومیٹر طویل 230kV ڈبل سرکٹ ٹرانسمیشن لائن تعمیر کی جائے گی، جبکہ ایران اپنی جانب سے ترسیل کا نظام استعمال کرے گا۔
نیپرا نے بجلی کے لیے تیل سے منسلک نیا ٹیرف فارمولا بھی منظور کیا ہے، جس کے تحت بنیادی نرخ 3.6 امریکی سینٹ فی یونٹ مقرر کیا گیا ہے، جبکہ اضافی چارجز عالمی تیل کی قیمتوں سے منسلک ہوں گے۔
حکام کے مطابق اگر تیل کی قیمت 60 ڈالر فی بیرل ہو تو فی یونٹ قیمت تقریباً 8.4 امریکی سینٹ تک پہنچ سکتی ہے۔
ریگولیٹر نے گوادر اور ساحلی علاقوں میں توانائی کی فراہمی کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ غیر مستحکم بجلی ترقیاتی منصوبوں اور اقتصادی سرگرمیوں کو متاثر کر سکتی ہے۔
QESCO نے نیپرا کو بتایا کہ ایران سے بجلی کے بغیر گوادر کو موجودہ حالات میں صرف 40 سے 45 میگاواٹ بجلی ہی فراہم کی جا سکتی ہے، وہ بھی ہنگامی اقدامات کے باوجود۔
مزید بتایا گیا کہ دالبندین، خضدار، پنجگور اور تربت گرڈ اسٹیشنز پر شَنٹ ری ایکٹرز فعال کیے جا چکے ہیں تاکہ وولٹیج میں استحکام لایا جا سکے۔
گوادر ڈور اور ڈیپ سی پورٹ فیڈرز پر آٹومیٹک وولٹیج ریگولیٹرز بھی نصب کیے گئے ہیں جبکہ علاقائی وولٹیج اسٹڈی اور بہتری کے لیے ایک کنسورشیم کو معاہدہ دیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق آئندہ 24 ماہ میں STATCOM سسٹم نصب کرنے کا منصوبہ بھی ہے تاکہ طویل مدتی گرڈ استحکام یقینی بنایا جا سکے۔
نیپرا نے CPPA-G، QESCO، ISMO اور نیشنل گرڈ کمپنی کو ہدایت دی ہے کہ وہ بلوچستان کے ساحلی علاقوں کے لیے آئندہ 6 ماہ کا مشترکہ روڈمیپ پیش کریں، جس میں بجلی کی فراہمی، سسٹم کی بہتری، مقامی پیداوار اور ادارہ جاتی ہم آہنگی شامل ہوگی۔