تازہ ترین
کوئٹہ: وحدت کالونی میں گھریلو ناچاقی پر خاتون اور 4 بچوں کا قتل، صوبائی وزیر داخلہ کا نوٹس، 24 گھنٹوں میں رپورٹ طلب کوئٹہ میں خاتون اور چار بچوں کے قتل پر وزیر داخلہ بلوچستان کا اظہارِ افسوس بلوچستان میں ایماندار افسران کب تک انتقام کا نشانہ بنتے رہیں گے؟ کالعدم بی ایل اے کا ’خواتین نیٹ ورک‘: خودکش حملوں اور دہشت گردی کے لیے برین واشنگ کے طریقہ کار کا پردہ چاک فتنہ الہندوستان کے خلاف ایف سی بلوچستان (ساؤتھ)کی تابر توڑ کاروائیاں مشرقِ وسطیٰ میں نیا تنازع شدت اختیار کر گیا، ایران کا اسرائیل پر بڑا میزائل حملہ؛ ٹرمپ کی فوری سفارتی مداخلت کوئٹہ تیزاب حملہ ڈاکٹر ماہ نور کی حالت مستحکم، بینائی محفوظ، اے کے یو ایچ میں علاج جاری رخنی کو جدید ماڈل ڈویژنل سٹی بنانے کا فیصلہ، اہم ترقیاتی منصوبوں کی منظوری ڈاکٹر ماہ نور پر تیزاب حملہ: ماہرہ خان، یاسر حسین سمیت فنکاروں کا شدید ردعمل، انصاف کا مطالبہ آصفہ بھٹو زرداری کی ڈاکٹر ماہ نور نثار پر تیزاب حملے کی شدید مذمت "پاکستان آپ کے ساتھ کھڑا ہے" — وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کی ڈاکٹر ماہ نور نثار سے ملاقات ویمن پارلیمنٹری کاکس بلوچستان کی کوئٹہ میں خاتون ڈاکٹر پر تیزاب حملے کی شدید مذمت تیزاب حملے کے بعد ڈاکٹر ماہ نور نثار کی مدد کرنے والے عبدالرزاق ترکئی کے لیے سول ایوارڈ کا اعلان فلپائن میں شدید زلزلہ: 5 افراد ہلاک، متعدد زخمی، سرکاری میڈیا کی تصدیق پاک افغان تجارت کی معطلی سے افغان کسان شدید مالی بحران کا شکار گلگت بلتستان اسمبلی انتخابات: غیر حتمی نتائج میں پیپلز پارٹی کی واضح برتری، 9 نشستیں اپنے نام کر لیں
بلوچستان خبر

کوئٹہ میں خاتون اور چار بچوں کے قتل پر وزیر داخلہ بلوچستان کا اظہارِ افسوس

کوئٹہ میں خاتون اور چار بچوں کے قتل پر وزیر داخلہ بلوچستان کا اظہارِ افسوس

کوئٹہ: صوبائی وزیر داخلہ بلوچستان میر ضیاء اللہ لانگو نے کوئٹہ کے علاقے وحدت کالونی میں پیش آنے والے افسوسناک واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے مبینہ طور پر ایک شخص کی جانب سے اپنی اہلیہ اور چار کمسن بچوں کے قتل پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔


وزیر داخلہ بلوچستان نے واقعے کو انتہائی افسوسناک اور دل دہلا دینے والا قرار دیتے ہوئے کہا کہ معصوم جانوں کے ضیاع پر پوری قوم رنجیدہ ہے۔ انہوں نے متاثرہ خاندان کے لواحقین سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار بھی کیا۔


میر ضیاء اللہ لانگو نے انسپکٹر جنرل پولیس بلوچستان اور کمشنر کوئٹہ ڈویژن سے واقعے کی تفصیلی رپورٹ طلب کرتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ 24 گھنٹوں کے اندر واقعے کے تمام محرکات، حقائق اور ابتدائی تحقیقات پر مشتمل رپورٹ پیش کی جائے۔


انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ واقعے کی ہر پہلو سے شفاف، غیر جانبدار اور جامع تحقیقات کی جائیں تاکہ اصل حقائق سامنے لائے جا سکیں اور ذمہ دار عناصر کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔


وزیر داخلہ بلوچستان نے واضح کیا کہ اس افسوسناک واقعے کی تحقیقات میں کسی قسم کی غفلت، لاپرواہی یا کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی اور تمام متعلقہ ادارے اپنی ذمہ داریاں پوری دیانتداری اور پیشہ ورانہ انداز میں انجام دیں۔


میر ضیاء اللہ لانگو نے کہا کہ حکومت بلوچستان شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کو اپنی اولین ترجیحات میں شامل سمجھتی ہے اور ایسے افسوسناک واقعات کی روک تھام کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کیے جائیں گے۔


انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ واقعے کے ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا اور متاثرہ خاندان کو انصاف کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی۔